کوئٹہ:(نیوزڈیسک) انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (آئی جی ایف سی) بلوچستان نارتھ میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے کوئٹہ شہر کے مختلف عوامی مقامات کا دورہ کیا اور شہریوں میں گھل مل کر ان کے مسائل سنے۔

اس موقع پر مقامی تاجروں، مزدوروں اور کاروباری شخصیات نے اعلیٰ فوجی افسر کو اپنے درمیان دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا، جبکہ لوگوں نے ان کے ساتھ سیلفیاں اور تصاویر بھی بنوائیں۔ میجر جنرل عاطف مجتبیٰ نے شہریوں کے مسائل کو ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے فوری حل کروانے کی یقین دہانی کرائی۔

دورے کے دوران آئی جی ایف سی نارتھ نے مشن روڈ، میزان چوک، قندھاری بازار، لیاقت بازار، منان چوک، انسکمب روڈ اور زرغون روڈ سمیت شہر کے اہم تجارتی اور عوامی مراکز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وہ عام شہریوں کی طرح بازاروں میں گھومے، دکانداروں اور گاہکوں سے براہ راست بات چیت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

شہریوں نے انہیں اپنے روزمرہ مسائل، سیکیورٹی خدشات، ٹریفک مسائل، صفائی ستھرائی اور دیگر محلی امور سے آگاہ کیا۔

مقامی تاجروں کا کہنا تھا کہ ایک اعلیٰ فوجی افسر کا اس طرح عوام میں گھل مل کر مسائل سننا ایک خوش آئند اقدام ہے۔ ایک تاجر نے بتایا کہ ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ آئی جی ایف سی خود بازار میں آئیں گے اور ہماری بات سنیں گے۔

مزدوروں اور کاروباری افراد نے بھی اس دورے کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدام عوام اور فورسز کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا۔

لوگوں میں جوش و خروش کا عالم یہ تھا کہ بہت سے شہریوں نے میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ کے ساتھ سیلفیاں لیں اور تصاویر بنوائیں۔ بچوں سے لے کر بزرگ تک سب نے اس موقع کو یادگار بنانے کی کوشش کی۔

ایک نوجوان نے کہا کہ یہ تصاویر ہماری یادوں کا حصہ بن جائیں گی۔ میجر جنرل عاطف مجتبیٰ نے شہریوں سے بات چیت کے دوران ان کے خدشات کو غور سے سنا اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کو ہدایات دیں کہ مطرح کردہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ عوام کی فلاح و بہبود اور سیکیورٹی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور ایسے دورے مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں گے تاکہ عوام اور اداروں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہو۔

یہ دورہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور عوام کے اعتماد کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے بھی آئی جی ایف سی کے اقدام کی تعریف کی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ا ئی جی ایف سی

پڑھیں:

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے