ترجمان نے کہا کہ ایجنسی، اس دھماکے سے متعلق مختلف پہلوؤں اور سراغوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے اور اس مہلک حملے میں ملوث دیگر افراد کی شناخت اور انہیں ٹریک کرنے کیلئے متعلقہ ریاستی پولیس کیساتھ ملکر مختلف ریاستوں میں چھاپے مار رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لال قلعہ کار دھماکے کے سسلے میں بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے جموں کشمیر سمیت دہلی، ہریانہ، اور اترپردیش کی سکیورٹی ایجنسیز کو "وائیٹ کالر ٹیرر ماڈیول" (White Collar Terror Module) کے ان حامیوں اور معاونین کے بارے میں مطلع کیا ہے جو ان ریاستوں میں چھپے یا پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ایجنسی کے ترجمان نے کہا "این آئی اے دہلی پولیس، جموں و کشمیر پولیس، ہریانہ پولیس، یوپی پولیس اور مختلف خفیہ و معاون ایجنسیز کے ساتھ رابطے میں ہے اور قریبی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ایجنسی، دھماکے کی سازش رچنے والوں کا سراغ لگانے اور اس کیس میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کے لئے بھی متعدد پہلوؤں پر کام کر رہی ہے۔

ایجنسی نے منگل کی شام دھماکے کے ایک اور سازش شار، دھوج کے رہنے والے سویاب کو فرید آباد سے گرفتار کیا۔ این آئی اے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سویاب نے لال قلعہ دھماکے سے قبل (گاڑی چلا رہے) ڈاکٹر عمر کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کیا تھا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایجنسی، اس دھماکے سے متعلق مختلف پہلوؤں اور سراغوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے اور اس مہلک حملے میں ملوث دیگر افراد کی شناخت اور انہیں ٹریک کرنے کے لئے متعلقہ ریاستی پولیس کے ساتھ مل کر مختلف ریاستوں میں چھاپے مار رہی ہے۔ اس سے قبل این آئی اے نے اس کیس کی تفتیش کے دوران عمر کے چھ قریبی ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا تھا۔

معروف سکیورٹی ماہر اور اترپردیش و آسام پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل پرکاش سنگھ نے نمائندے کو بتایا کہ این آئی اے یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کون سی دہشت گرد تنظیمیں لال قلعہ دھماکے سے منسلک ہیں۔ میرا خیال ہے کہ لال قلعہ دھماکے کے بعد متعدد اسلامی ادارے اور مدرسے پہلے ہی خفیہ ایجنسیز کی نگرانی میں آ چکے ہیں۔ انہوں نے ان دہشتگردانہ کارروائیوں میں مبینہ طور شدت پسند ڈاکٹروں کے ملوث ہونے کو ایک انتہائی سنگین رجحان قرار دیا۔

اس سے قبل این آئی اے نے فرید آباد کے الفلاح میڈیکل کالج سے منسلک ڈاکٹر مزمل شکیل (پلوامہ)، ڈاکٹر عدیل احمد راتھر (اننت ناگ)، ڈاکٹر شاہین سعید (لکھنؤ) کو بھی گرفتار کیا ہے۔ ایجنسی نے شوپیاں کے ایک امام مسجد عرفان احمد وگے کو بھی حراست میں لیا ہے۔ اب تک ایجنسی نے 10 نومبر کو قومی دارالحکومت کو ہلا دینے والے دھماکے میں زخمی ہوئے شہریوں کے علاوہ 100 سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آئی اے دھماکے سے لال قلعہ رہی ہے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد