چیٹ جی پی ٹی صارفین کے لیے بہترین فیچر کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی میں ایک ایسا چھوٹا مگر اہم اپڈیٹ متعارف کرایا ہے جو صارفین کے تجربے کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔
کمپنی کے مطابق اب چیٹ جی پی ٹی کے ویب ورژن اور موبائل ایپلیکیشنز میں وائس موڈ کا استعمال کسی بھی چیٹ کے اندر براہِ راست ممکن ہوگا، جو پہلے الگ انٹرفیس کے تحت دستیاب تھا۔ اس تبدیلی کے بعد صارفین ٹیکسٹ فیلڈ میں موجود ویو فارم آئیکون پر کلک کر کے فوری طور پر وائس چیٹ شروع کر سکتے ہیں اور اسی دوران چیٹ کی ٹرانسکرپٹ بھی باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔
اوپن اے آئی نے وضاحت کی ہے کہ اس نئے فیچر سے گفتگو کا سلسلہ متاثر نہیں ہوگا اور وائس موڈ کو چیٹس کے اندر ضم کرنے سے صارفین کا تجربہ زیادہ ہموار اور مؤثر ہوگا۔
البتہ جو صارفین پرانے الگ وائس انٹرفیس کو ترجیح دیں، وہ سیٹنگز کے وائس موڈ سیکشن میں “Separate mode” کو فعال کر کے پرانے انداز میں بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں۔
یہ اپڈیٹ نہ صرف آواز کی بنیاد پر ہدایات دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ صارفین اب تصاویر یا ویڈیوز کے ذریعے بھی ماڈل سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
اگرچہ گوگل نے اپنے جیمنائی لائیو فیچر میں بھی ملتی جلتی سہولت دی ہے، مگر اوپن اے آئی کا یہ نیا انٹیگریٹڈ اپروچ چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کو مزید مؤثر اور صارف دوست بناتا ہے۔
نئی تبدیلی کے نتیجے میں صارفین کے لیے گفتگو کے دوران متعدد ویژول اور وائس فیچرز کو اکٹھا استعمال کرنا ممکن ہوگیا ہے، جو چیٹ جی پی ٹی کے سمارٹ اور جدید تجربے کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی سکتے ہیں
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔