الیکشن کمیشن کے مطابق کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کیلئے 3 ہزار 150 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہوگئی۔ جن میں سے 2710 افراد کے کاغذات منظور، جبکہ 440 کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کیلئے 3 ہزار 150 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہوگئی۔ جن میں سے 2710 افراد کے کاغذات منظور، جبکہ 440 کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پولنگ 28 دسمبر 2025ء کو ہوگی۔ اس سلسلے میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہو چکی ہے۔ ضلع کوئٹہ میں چار ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز زرغون، چلتن، سریاب اور تکتو کی یونین کونسلز اور وارڈز شامل ہیں۔ کوئٹہ میں 172 یونین کونسلز کے 641 وارڈز کے لیے مجموعی طور پر 3150 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ جن میں سے 2710 منظور اور 440 مسترد کئے گئے ہیں، جبکہ خواتین کی جانب سے 33 کاغذات نامزدگی جمع کئے گئے۔ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن زرغون میں 46 یونین کونسلز کے 161 وارڈز کے لئے 943 کاغذات جمع ہوئے، جن میں 767 منظور اور 176 مسترد ہوئے۔

چلتن ٹاؤن میں 46 یونین کونسلز کے 173 وارڈز کے لیے 703 کاغذات موصول ہوئے، جن میں 616 منظور اور 87 مسترد ہوئے۔ سریاب ٹاؤن میں 38 یونین کونسلز کے 145 وارڈز کے لئے 561 میں سے 483 کاغذات منظور اور 78 مسترد ہوئے، جبکہ تکتو ٹاؤن میں 42 یونین کونسلز کے 162 وارڈز کے لئے 943 میں سے 844 کاغذات منظور اور 99 مسترد ہوئے۔ اس صورت حال کے بعد مجموعی طور پر 532 نشستوں پر امیدوار انتخابی میدان میں موجود ہیں، جبکہ 89 وارڈز ایسے ہیں جہاں پر صرف ایک ایک امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں۔ جن کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کا امکان ہے اور 20 وارڈز ایسے ہیں جہاں پر کوئی کاغذات نامزدگی جمع نہیں ہوئے۔ یاد رہے ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں اپیلیٹ ٹریبونل کے پاس دائر کرنے کی آخری تاریخ 28 نومبر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل بلدیاتی انتخابات یونین کونسلز کے کاغذات منظور مسترد ہوئے منظور اور کوئٹہ میں کے کاغذات وارڈز کے

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود