نیٹ فلکس کی مشہور سیریز اسٹرینجر تھنگز کا پہلا پارٹ آج ریلیز ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
نیٹ فلکس کی مقبول ترین سائنس فکشن فلم اسٹرینجر تھنگز کے سیزن فائیو کا پہلا سیزن آج ریلیز کیا جائے گا۔
سیزن فور میں دھوم مچانے والی فلم اسٹرنجر تھنگز کے سیزن فائیو کا پارٹ ون آج ریلیز کیا جائے گا اور ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایک دہائی تک ایلیون، مائیک، ہوپر، جوائس اور ہاکنز کے دیگر کرداروں کی کہانی Season 5 کے ذریعے انجام کو پہنچے گی۔
اس فلم کا پہلا پارٹ آج ریلیز کیا جائے گا جس میں 1 سے 4 قسطیں شامل ہوں گی۔
اس کے علاوہ سیزن فائیو کا پارٹ ٹو 25 دسمبر کو ریلیز ہوگا جس میں 5 سے 7 اقساط ہوں گی۔
اسٹرینجر سیزن فائیو کی مکمل 8 قسطوں پر مبنی سیریز کو دنیا بھر میں 31 دسمبر کو نئے سال کے موقع پر پیش کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق سیزن فائیو کا پہلا پارٹ امریکی، کینیڈا، جنوبی امریکا اور کیریبین وقت کے مطابق رات 8 بجے نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا جبکہ پاکستانی وقت کے حساب سے 26 نومبر کی صبح یہ فلم ریلیز ہوگی۔
سیزن 4 نے کہانی کا نقشہ پوری طرح بدل دیا تھا، جس میں پہلی بار ویكنا اصل ولن کے کردار میں نظر آئے۔
سیزن 4 کے اختتام پر ہاکنز کو مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار دکھایا گیا، جبکہ وِل بائرز اور ویكنا کے درمیان بڑھتی قربت کو دکھایا گیا تھا جو صرف ہاکنز نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریلیز کیا جائے گا سیزن فائیو کا ا ج ریلیز کا پہلا
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔