اگر معلوم ہوتا کہ مینڈیٹ قبول نہیں ہوگا تو ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لیتے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ توقع کر رہے تھے کہ اس بار ان کا مینڈیٹ قبول کیا جائے گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہاہم نے کئی مشکلات اور سختیاں برداشت کیں، اور سوچ رہے تھے کہ ہمارا مینڈیٹ اس بار تسلیم کیا جائے گا۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ اب بھی قبول نہیں کیا جائے گا تو ہم ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لیتے۔
انہوں نے ہری پور کے ضمنی الیکشن پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جیتی ہوئی سیٹ کا دفاع نہیں کر سکے، اور یہ کہ جیتی ہوئی سیٹ نہ دینا جمہوریت کے لیے اچھا شگون نہیں۔اب خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں میں کسی اور کا سکہ چل رہا ہے، یہ ظلم ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، ہر مرتبہ امید کے ساتھ آتے ہیں کہ ملاقات ہوگی، مگر صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔