خواجہ آصف کا پی ٹی آئی قیادت پر سخت ردعمل: “ہمت ہے تو پاکستان آ کر لڑیں”
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیرونِ ملک مقیم پی ٹی آئی رہنماؤں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلے ملک کو لوٹ کر بھاگ گئے اور اب باہر بیٹھ کر پاکستانیوں سے پیسے بٹور کر پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر واقعی ہمت رکھتے ہیں تو پاکستان واپس آکر اپنی سیاسی جنگ لڑیـں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ بیرونِ ملک موجود یہ افراد یورپ میں جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف مہم چلا کر کھلی غداری کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ پاکستان کی لڑائیاں پاکستان کی زمین پر لڑنی چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف نے بھی سیاست میں مشکل وقت دیکھا، جیلیں کاٹیں، ان کے خاندانوں کو بھی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن دونوں نے کبھی ملک کے مفادات کو نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد پاکستان میں رہ کر کی اور اس کی قیمت بھی ادا کی، مگر وطن پر آنچ نہیں آنے دی۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ عمران خان اور ان کی ٹیم نے اقتدار جانے کے بعد پہلے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر ملک کو دیوالیہ کرنے کی کوشش کی اور اب پاکستان کی برآمدات کو نقصان پہنچانے کے لیے لابنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کام بھارت کرے تو سمجھ آتی ہے، لیکن خود کو پاکستانی کہنے والے جب ایسا کریں تو انہیں “ننگِ وطن اور غدار” ہی کہا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔