پاراچنار، مزار قائد شہید پر حلف برداری
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان خیبر پختونخوا ریجن ضلع کرم ابوالفضل یونٹ کے زیر اہتمام مزار قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی پر حاضری دی گئی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
پاراچنار، آئی ایس او کے اراکین کی مزار قائد شہید پر حلف برداری
پاراچنار، آئی ایس او کے اراکین کی مزار قائد شہید پر حلف برداری
پاراچنار، آئی ایس او کے اراکین کی مزار قائد شہید پر حلف برداری
پاراچنار، آئی ایس او کے اراکین کی مزار قائد شہید پر حلف برداری
پاراچنار، آئی ایس او کے اراکین کی مزار قائد شہید پر حلف برداری
پاراچنار، آئی ایس او کے اراکین کی مزار قائد شہید پر حلف برداری
پاراچنار، آئی ایس او کے اراکین کی مزار قائد شہید پر حلف برداری
پاراچنار، آئی ایس او کے اراکین کی مزار قائد شہید پر حلف برداری
پاراچنار، آئی ایس او کے اراکین کی مزار قائد شہید پر حلف برداری
اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان خیبر پختونخوا ریجن ضلع کرم ابوالفضل یونٹ کے زیر اہتمام مزار قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی پر حاضری دی گئی۔ سابقہ ضلعی صدر تنزیل عباس اور سابقہ ضلعی اطلاعات سیکرٹری منتظر احسن نے نئے ممبران کو اپنی ذمہ داری کے حوالے سے آگاہ کیا اور اخر میں ابوالفضل یونٹ نو منتخب صدر زین محمد نے نئی کابینہ کے ممبران سے حلف لیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔