ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے کلین سویپ نے قومی اسمبلی میں نمبر گیم بدل دی ، پیپلز پارٹی کا اتحادی کردار کمزور ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے کلین سویپ نے قومی اسمبلی میں نمبر گیم بدل دی اور حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کے لیے سب سے بڑی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ، یہ ضرورت کابینہ میں شامل چھوٹی اتحادی جماعتوں کی حمایت سے پوری ہوجائے گی۔ضمنی انتخابات میں مزید 6 نشستیں ملنے کے بعد قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132 ہوگئی جبکہ سادہ اکثریت کے لیے حکمران اتحاد کو 169 اراکین درکار تھے، پیپلز پارٹی کے بغیر کابینہ میں شامل دوسری اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 170 ہوگئی۔
پیپلز پارٹی اتحادی ہے، ہر موقع پر بھرپور ساتھ دیا، قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، عطا تارڑ
74 نشستوں کے باوجود ایوان میں پیپلز پارٹی کا اتحادی کردار کمزور ہوگیا اور اب حکومت کو اپنا وجود برقرار رکھنے اور قانون سازی کے لیے پیپلز پارٹی پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی 22، مسلم لیگ ق کی 5، استحکام پاکستان پارٹی کی 4، مسلم لیگ ضیا، بی اے پی اور نیشنل پارٹی کی ایک ایک نشست ہے جبکہ آزاد ارکان کی تعداد 4 ہے۔نون لیگ قومی اسمبلی میں دیگر اتحادیوں کو ساتھ مل کرآزادانہ طور پر قانون سازی کی پوزیشن میں آگئی۔
دوسری جانب اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 89 ہے، پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد ارکان کی تعداد 75 جبکہ جے یو آئی کے 10 ارکان ہیں۔بی این پی، پی کے میپ، ایم ڈبلیو ایم اور سنی اتحاد کونسل کا ایک ایک رکن ہے، 336 کے ایوان میں 3 نشستیں تاحال خالی ہیں۔مخصوص نشست پر منتخب خاتون رکن صدف احسان کو جے یو آئی نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔این اے 175 مظفرگڑھ سے منتخب جمشید دستی کو جعلی ڈگری پر نا اہل قرار دیا گیا۔معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔این اے 1 چترال سے منتخب عبدالطیف کو نو مئی کیس میں نااہل کیا گیا، اُن کا معاملہ بھی عدالت میں زیر التوا ہے۔
پنجاب بھر کے اسکولز، کالجز ، سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر اسپتالوں کی خستہ حال بسوں کے خلاف کارروائی کا حکم
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی میں ارکان کی تعداد پیپلز پارٹی مسلم لیگ
پڑھیں:
گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
سکردو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح ہے اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی اور بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔(جاری ہے)
جی بی ای-8 سکردو-2 میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار حاجی اکبر تابان کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر عوام کی محرومیاں ختم کرے گی اور گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ میں مؤثر آواز اٹھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور خطے میں بجلی کے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاکستان کے قیام کا جو مقصد تھا، اسے پورا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، خدمت اور عوامی ترقی کی سیاست ہے۔