Islam Times:
2026-07-24@03:13:03 GMT

آقا جان! آپ کا نذرانہ قبول ہو

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

آقا جان! آپ کا نذرانہ قبول ہو

اسلام ٹائمز: حسینیہ کی دیواروں پر حضرت زہراؑ کے القابات سے مزین کتبے، دل و جان کو مسحور کرنے والے تھے۔ شبِ دوم کے مقرر، حجت الاسلام علیزاده نے حدیث "جنود عقل و جهل" سے آغاز کیا۔ جیسے ہی آیت "وَ کانَ النّاسُ أُمَّةً واحِدَةً" تک پہنچے، تو گویا خدائی نور حسینیہ میں اتر آیا اور محفل میں بے پناہ سرور بھر گیا۔ نعرے بلند ہوئے، "ابالفضل علمدار؛ خامنه‌ای نگهدار… حیدر حیدر!"۔ فضا اس قدر پُرجوش تھی کہ یوں لگتا تھا حسینیہ شوق و جذبات سے پھٹ جائے گا۔ تحریر: محمد سہرابی

ہمیشہ دل میں کہتا ہوں: آقاجان! آپ کا نذرانہ قبول ہو؛ کیونکہ آپ کی فاطمیہ کی ضیافت ہمیشہ سب کے لیے وسیع و عام رہتی ہے، اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ رسولِ اکرمؐ کی دردانہ بیٹی کے احترام کو کتنی اہمیت دیتے ہیں، اور یہ ہم سب کے لیے ایک نمونہ ہے۔ میں کشاورز بلووارڈ کے قریب تھا اور میرا موبائل فون بند ہونے والا تھا۔ نزدیک ہی "پارک لاله" میٹرو اسٹیشن کے پاس فائر اسٹیشن میں گیا اور ان سے درخواست کی کہ اگر ممکن ہو تو میرا فون چارج کر دیں، ورنہ میرا کام رک جائے گا۔ وقت تقریباً 15:45 تھا۔ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے اپنی انسانی جذبے کے باوصف اجازت دے دی۔

وقت تیزی سے گزرا اور 16:10 بج گئے۔ میں نے حساب لگایا کہ یہاں سے میدان فلسطین تک تقریباً 26 منٹ کا راستہ ہے۔ کم وقت ہونے کے باعث فکر مند تھا کہ شاید بروقت نہ پہنچ سکوں۔ حسینیہ امام خمینی کے دروازے 15:30 پر کھلنے کا اعلان ہوا تھا۔ فوری فیصلہ کیا کہ آن لائن ٹیکسی لے لوں۔ فائر اسٹیشن کے دوستوں کا شکریہ ادا کرکے نکل آیا اور ایک ٹیکسی بُک کی۔ ڈرائیور جن کا نام فرزاد تھا، بڑے خوش اخلاق انسان تھے۔ جب ہم فلسطین اسٹریٹ پہنچے تو معلوم ہوا کہ راستہ بند ہے۔ فرزاد نے کہا "یہاں داخل ہونے کے لیے کارڈ چاہیے، ورنہ نہیں جانے دیتے۔" میں نے کہا "اتفاقاً میرے پاس کارڈ ہے۔" میں نے فوراً ایک اہلکار کو آواز دی "جناب! میرے پاس دعوت نامہ ہے!" اہلکار نے کہا "بہت خوب! آپ اندر جا سکتے ہیں، لیکن پیدل جانا ہوگا، گاڑی نہیں جائے گی۔" میں نے فرزاد صاحب سے ادب سے رخصت لی اور وعدہ کیا کہ آپ کو مجلس میں دعا دوں گا۔ وہ بھی خوشی سے مسکرائے اور ہم جدا ہو گئے۔

جذبات سے لبریز، حسینیہ کی صفوں کی طرف بڑھتے قدم:
میں پورے وقار کے ساتھ قدم رکھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ پہلی بار حسینیۂ امام خمینیؒ میں داخل ہونے جا رہا تھا۔ پہلے چیک پوائنٹ پر سلام و دعا کے ساتھ قومی شناختی کارڈ چیک ہوا۔ دوسرے مرحلے میں تلاشی ہوئی۔ پھر ہم نے جوتے جمع کروائے اور پذیرائی کے حصے میں پہنچ گئے جہاں تین سبز پوش خادم کھڑے خدمت میں مصروف تھے۔ پذیرائی میں، کیک یزدی، کھجور، چینی اور گرم چائے دی جا رہی تھی۔ 

تہران کی ٹھنڈی اور آلودہ ہوا میں حسینیہ کے باہر کھجور اور کیک کے ساتھ گرم چائے کا لطف ایسا تھا کہ منظر کی خوبصورتی آنکھوں میں اترتی جا رہی تھی۔ خدام کا شکریہ ادا کرکے میں شبستان کے دروازے کی طرف بڑھا۔ وہاں کارڈ جمع کروایا، آخری مرحلہ کی تلاشی کے بعد اندر داخل ہوا۔ یہ اس بزرگوار کا گھر ہے جن کے بارے میں تاریخ بھی لکھنے سے عاجز ہے۔ وہ نائبِ امامِ عصرؑ ہیں۔ چند قدم کے فاصلے پر ہم صفوں میں بیٹھ گئے اور احکامِ "مسافر و قصر نماز" سننے لگے۔ کچھ دیر بعد قاریٔ قرآن نے سورہ انسان کی آیات تلاوت کیں۔ پھر اذان کی صدائیں بلند ہوئیں اور نمازِ مغرب و عشاء ادا کی گئی۔ نماز کے ختم ہوتے ہی عاشقان کی ایک لہر تھی جو "دیدارِ یار" کی خواہش لیے آگے کی صفوں کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہم بھی اسی عشق کی رو میں آگے بڑھے۔ 

مجلس کا نور، شور، اور فاطمیہ کی خوشبو:
حسینیہ کی دیواروں پر حضرت زہراؑ کے القابات سے مزین کتبے، دل و جان کو مسحور کرنے والے تھے۔ شبِ دوم کے مقرر، حجت الاسلام علیزاده نے حدیث "جنود عقل و جهل" سے آغاز کیا۔ جیسے ہی آیت "وَ کانَ النّاسُ أُمَّةً واحِدَةً" تک پہنچے، تو گویا خدائی نور حسینیہ میں اتر آیا اور محفل میں بے پناہ سرور بھر گیا۔ نعرے بلند ہوئے:
"ابالفضل علمدار؛ خامنه‌ای نگهدار… حیدر حیدر!"

فضا اس قدر پُرجوش تھی کہ یوں لگتا تھا حسینیہ شوق و جذبات سے پھٹ جائے گا۔  بعد ازاں معروف ذاکر حاج محمدرضا بذری نے ۱۲ روزہ دفاع مقدس کے شہدا کی یاد، "مرگ بر اسرائیل" کے نعروں اور رہبر انقلاب کی استقامت کو حضرت موسیٰؑ کے قیام سے تشبیہ دے کر مجلس میں عجب انقلاب برپا کر دیا۔ 

دل کی آخری گفتگو:
سینہ‌زنی ختم ہوئی۔ حضرت آقا نے محفل سے رخصت لی۔ لوگ دروازے کی طرف رواں ہوئے۔ ہم نے وہیں نیاز میں دی گئی غذا تناول کی اور امامِ زمانہؑ کو سلامِ آخر پیش کرکے حسینیہ سے باہر آگئے۔ باہر آتے ہوئے دل میں پھر عرض کیا، "آقاجان! آپ کا نذرانہ قبول ہو۔ آپ کی فاطمیہ کی ضیافت ہمیشہ عام و وسیع رہتی ہے۔ یہ آپ کی اس توجہ کی دلیل ہے جو رسولؐ کی عزیز بیٹی کے غم کو زندہ رکھنے کے لیے رکھتے ہیں۔" اور یہ ہمارے لیے درس ہے کہ گھروں میں فاطمیہ کی مجالس زیادہ سے زیادہ منعقد کریں، تاکہ حضرت زہراؑ کی ولایت کے لیے ایثار و جدوجہد کبھی فراموش نہ ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فاطمیہ کی کی طرف کے لیے

پڑھیں:

حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس

سٹی 42: خصوصی مشیر وزیر اعلیٰ علی ڈارکی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا۔  جس میں علی ڈار نے داتاؒ دربار عرس کیلئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا
صوبائی وزیر بلال یاسین، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد شریک ہوئے ۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق و دیگر شریک ہوئے ۔ 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ حضرت داتا گنج بخش ؒ کا تین روزہ سالانہ عرس 2 تا4 اگست کو منعقد ہوگا،خطیب داتا ؒدربار مولانا ندیم مختار نے سیرت و صوفی کانفرنسز سے متعلق آگاہ کیا۔محافل، قرأت اور نعت خوانی کے مقابلوں کے انعقاد سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
علی ڈار نے کہا داتاؒ دربار تعمیراتی منصوبہ عہد ساز اور تاریخی نوعیت کا حامل ہے،عرس میں دنیا بھر سے زائرین حاضری کی سعادت حاصل کریں گے،زیرِ تعمیر انڈر پاس اور متعلقہ سڑکیں عرس سے قبل کھولی جائیں گی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

متعلقہ مضامین

  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس