Islam Times:
2026-06-03@04:41:15 GMT

حضرت فاطمہؑ کا پوشیدہ مزار اور غیبت و قیام امامؑ زمانہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

حضرت فاطمہؑ کا پوشیدہ مزار اور غیبت و قیام امامؑ زمانہ

اسلام ٹائمز: یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حضرت فاطمہ زہراؑ کے مزار کی پوشیدگی کے مختلف پہلو الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط اور ایک دوسرے کو تقویت دینے والے ہیں۔ ان کی وصیت بیک وقت ایک سیاسی احتجاج بھی تھی اور ایک حفاظتی اقدام بھی۔ یہ احتجاج بعد ازاں شیعی ایمان کے امتحان اور انسان و عدالتِ موعود کے درمیان رشتہ بن کر ظاہر ہوا۔ یوں یہ تمام تہیں مل کر ایک جاودانی گواہی بن جاتی ہیں، ایسی گواہی جو تاریخ کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے چیلنج کرتی ہے۔ ایام فاطمیہؑ کی مناسبت سے (تسنیم نیوز ایجنسی کا ثقافتی تجزیہ)

حضرت فاطمہ زہراؑ کی وصیت بیک وقت ایک سیاسی احتجاج اور عجیب اقدام تھی، ایک ایسا عمل جو ایمان کے امتحان اور مستقبل کی عدالت کے ساتھ مقدس رشتہ جوڑنے کی علامت ہے۔ ان تمام معنوی و تاریخی پرتوں کے اندر ایسی مظلومیت اور فریاد پوشیدہ ہے جو پوری تاریخ کو ہمیشہ کے لیے چیلنج کرتی رہیگی۔ ادیان و سماجی تحریکوں کی تاریخ میں کسی مقدس مقام کو پوشیدہ رکھنا عام طور پر اس سے جڑے وقعات کو فراموش کر دینے کی کوشش سمجھا جاتا ہے، مگر حضرت فاطمہ زہراؑ کے مزار کے معاملے میں یہ پوشیدگی اسلامی تاریخ کی سب سے عمیق اور پُرمعنی علامتی احتجاج کی مستقل شکل اور مزاحمت کی علامت ہے۔ حضرت سیدہ الصدیقہؑ کا مخفی مزار اہلِ تشیع سمیت ہر مسلمان کے اجتماعی شعور میں ایک گہرے، تہہ دار اور مؤثر وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ قبر جو نگاہوں سے اوجھل ہے، تاریخ، فکر اور دلوں میں زندہ اور گویا ہے۔ 

پوشیدگی کی وصیت سیاسی و تاریخی احتجاجی دستاویز:
قبرِ مبارک کے پُراسرار اور پوشیدہ رہنے کی سب سے معتبر بنیاد خود حضرت فاطمہؑ کی وصیت ہے۔ متعدد روایات مثلاً ارشاد القلوب اور بحارالانوار تفصیل سے بیان کرتی ہیں کہ حضرت سیدہؑ نے امیرالمؤمنینؑ کو وصیت فرمائی کہ ان کی تدفین رات کے وقت کی جائے اور دشمنوں و غیروں سے پوشیدہ رکھی جائے۔ یہ وصیت محض ایک نجی خواہش نہیں تھی، بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام، ایک سیاسی بیانیہ اور تاریخی سند تھی، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک واضح پیغام رکھتی تھی۔

حضرت فاطمہ زہراؑ نے اپنے مزار کو پوشیدہ رکھنے کے فیصلے کے ذریعے اس وقت کی مقتدرہ اور حکومتی ڈھانچے کے خلاف کھلا احتجاج کیا۔ وہ اپنے آخری ایام میں خلافت کے غصب کیے جانے، فدک کے ضبط کیے جانے، اور اپنے گھر پر حملے جیسے واقعات کی گواہ تھیں۔ چنانچہ خفیہ تدفین ان کا آخری اعلان تھا کہ وہ ان حکمرانوں کی مشروعیت کو تسلیم نہیں کرتیں جنہوں نے اہلِ بیتِ رسول ﷺ پر ظلم کیا۔

یہ عمل دراصل ظلم کے نظام کے خلاف ابدی بائیکاٹ تھا، ایسا بائیکاٹ جس نے حتیٰ کہ موت کے بعد بھی ظالموں کو یہ موقع نہ دیا کہ وہ ان کے جنازے میں شرکت کر کے اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ بحال کر سکیں۔

مظلومیت، ایک ابدی سوالیہ نشان:
حضرت سیدہؑ نے اپنی مظلومیت کو ایک ابدی سوالیہ نشان میں بدل دیا۔ ایک ظاہر و شاندار مزار وقت گزرنے کے ساتھ تقدس کی چادر میں لپٹ کر اصل سانحے کو بھلا سکتا تھا، مگر ایک پوشیدہ قبر ہمیشہ ایک سوالیہ نشان بنی رہتی ہے۔ ہر مسلمان اور ہر مؤرخ جب صدرِ اسلام کی تاریخ پڑھتا ہے، تو یہ سوال اس کے سامنے ضرور آتا ہے کہ "پیغمبر اسلام ﷺ کی بیٹی، جو سب سے زیادہ محبوب و محترم تھیں، کیوں خفیہ طور پر دفن کی گئیں؟

یہ پُراسرار پوشیدگی حضرت سیدہؑ کی مظلومیت کو تاریخی فراموشی سے محفوظ رکھتی ہے اور اسے ایک زندہ سوال میں بدل دیتی ہے، ایسا سوال جو ہر دور کے انسان کو دوبارہ سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

مخفی مزار کی تقدیر کا مستقبل کی تاریخ سے تعلق:
اس موضوع کے متعدد آخرالزمانی پہلو اسے ایک محض تاریخی واقعہ سے اٹھا کر زندہ پیشگوئی اور حکومتِ عدلِ مهدوی کا لازمی حصہ بنا دیتے ہیں۔ حضرت فاطمہ زہراؑ کا یہ پوشیدہ مزار، دراصل منجیِ آخرالزمان امام مهدیؑ کے ظہور سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور اس مزار کا آشکار ہونا، قیام امام مہدی علیہ السلام کے سب سے نمایاں اور علامتی اقدامات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

امام زمانہؑ جب الٰہی عادلانہ حکومت قائم کرنے کے لیے قیام فرمائیں گے تو سب سے پہلے اپنے اہلِ بیتؑ کے پامال شدہ حقوق کی بازیابی فرمائیں گے۔ روایات کے مطابق، ظہور کے دن امامؑ کے اولین اقدامات میں سے ایک یہ ہوگا کہ وہ اپنی جد، حضرت فاطمہ زہراؑ کے لیے دوبارہ ایک شاندار تشییع و تدفین انجام دیں گے، جو تمام مظالم کے ازالے اور دورِ احقاقِ حق کے آغاز کی علامت ہوگا۔

ابتدائی طور پر رات کی تدفین اور قبر کا مخفی رہنا، اس وقت باطل کے عارضی غلبے کی نشانی تھا، جبکہ ظہور کے زمانے میں قبر کا ظاہر ہونا حق کے دائمی اور قطعی غلبے کی علامت بن جائے گا۔ دوسری طرف، یہ عمل ایک عالمگیر پیغام بھی رکھتا ہے۔ جب امام زمانہؑ، جو تمام انسانیت کے رہبر ہیں اور ہوں گے، اپنی جد حضرت فاطمہ زہراؑ کے لیے عالمی سطح پر مراسمِ تدفین انجام دیں گے، تو وہ پوری دنیا کو یہ دکھائیں گے کہ ان کی قائم کردہ حکومت دراصل حکومتِ علوی ہی کا تسلسل ہے، وہی حکومت جو ابتدا میں دخترِ پیامبرؐ کے حقوق ادا نہ کر سکی، مگر اب پوری شان و شوکت کے ساتھ عدلِ فاطمی کو بحال کرے گی۔

یہ عمل امامؑ کی حکومت کو ان کے پیروکاروں کے درمیان مزید استحکام اور مشروعیت بخشے گا، اور ان کے دشمنوں کے لیے ایک سخت اور واضح انتباہ ثابت ہوگا کہ وہ حکومتِ مهدوی، وہ عدلِ علوی جو ایک وقت تاریخ میں دب گیا تھا، اب ساری دنیا پر غالب اور برپا ہو چکا ہے۔

الٰہی امتحان اور ولایت پذیری کی نادیدہ حدود:
حضرت فاطمہ زہراؑ کی قبرِ مطہر کا پوشیدہ رہنا، اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں اور محبان اہلبیتؑ کے لیے ایک پیچیدہ اور کثیرالابعاد الٰہی امتحان ہے۔ ایسے مقام کی زیارت، جس کی درست جگہ ابہام میں لپٹی ہو، محض رسمی عبادت نہیں بلکہ ایمان، معرفت اور باطنی اتصال کا تقاضا کرتی ہے، ایسا تعلق جو مادّی حدوں سے ماورا ہو۔ ایک پوشیدہ مزار سے عقیدت صرف قلبی معرفت، اخلاص اور روحانی نسبت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی نکتہ شیعہ ہونے کے ظاہری و ثقافتی تصور اور ولایت‌ محور و باطنی ایمان کے درمیان فرق کو نمایاں کرتا ہے۔

جو شخص حضرت زہراؑ کے پوشیدہ مزار کی طرف متوجہ ہوتا ہے، وہ درحقیقت ایک ابدی صداقت اور ایک زندہ فکر سے رابطہ قائم کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ، یہ پوشیدگی امید کے استعارے کے طور پر بھی باقی ہے۔ جب بھی عاشقان اہلبیتؑ، حضرت سیدہؑ کی بارگاہ کی طرف دل سے رجوع کرتے ہیں، تو وہ دراصل اس روشن مستقبل سے عہدِ وفا باندھتے ہیں، ایک ایسے وقت سے جس میں وہ مزار آشکار ہوگا اور عدلِ فاطمی و مهدوی زمین پر قائم ہو جائے گا۔ یوں یہ عمل، انتظارِ فرج کو صورتحآل کو ایک خاموش انتظار سے نکال کر فعال، بامعنی اور امید انگیز عمل میں تبدیل کر دیتا ہے، جہاں انتظار خود ایک گہرا ایمانی عمل بن جاتا ہے۔

دور اندیشی، بصیرت اور حریمِ ولایت کے تحفظ کی حکمتِ عملی:
تاریخ پر نظر ڈالنے سے، خصوصاً جب ہم 1344 ہجری قمری میں وھابیوں کے ہاتھوں بقیع کے مزارات کی وسیع پیمانے پر مسماری کو یاد کرتے ہیں، یہ حقیقت اور بھی نمایاں ہوتی ہے کہ حضرت فاطمہ زہراؑ کی وصیت دراصل انتہائی ہوشمندانہ اور دور اندیشانہ اسٹریٹیجک حکمتِ عملی تھی۔ یہ وصیت دشمنوں کی مستقبل کی دشمنیوں کو پیشگی طور پر بھانپنے کا ثبوت ہے۔ حضرت فاطمہ زہراؑ اور حضرت علیؑ نے تاریخ اور اقتدار کی فطرت کا گہرا ادراک رکھتے ہوئے یہ جان لیا تھا کہ اہلِ بیتؑ کے دشمن مقدس مقامات تک کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کریں گے۔

اگر اس مظلومۂ دو عالم کا مزار واضح اور مشہور ہوتا، تو وہ یقیناً تاریخ کے مختلف ادوار، خاص طور پر حالیہ صدیوں میں، حملوں اور بے حرمتیوں کا پہلا نشانہ بنتا۔ یوں مزار کا پوشیدہ رہنا دراصل ایک حفاظتی دیوار ثابت ہوا، جس نے اس کی حرمت کو ظاہری و تاریخی توہین سے محفوظ رکھا۔ ساتھ ہی، اس پوشیدگی نے مزار کو سیاسی و دنیوی طاقتوں سے معنوی آزادی بھی عطا کی۔ کیونکہ ایک نامعلوم قبر کو نہ تو سیاسی طاقتیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہیں اور نہ اسے تجارتی یا سیاحتی مرکز میں بدلا جا سکتا ہے۔ یوں یہ بارگاہِ پنهان ایک خالص روحانی و قدسی مقام بن کر باقی رہتی ہے، جہاں عظمت کی بنیاد کسی عمارت یا گنبد پر نہیں، بلکہ صرف صاحبِ مزار کی شخصیت پر ہے۔ 

پوشیدگی، ایک معنادار اور تہہ دار عمل:
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حضرت فاطمہ زہراؑ کے مزار کی پوشیدگی کے مختلف پہلو الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط اور ایک دوسرے کو تقویت دینے والے ہیں۔ ان کی وصیت بیک وقت ایک سیاسی احتجاج بھی تھی اور ایک حفاظتی اقدام بھی۔ یہ احتجاج بعد ازاں شیعی ایمان کے امتحان اور انسان و عدالتِ موعود کے درمیان رشتہ بن کر ظاہر ہوا۔ یوں یہ تمام تہیں مل کر ایک جاودانی گواہی بن جاتی ہیں، ایسی گواہی جو تاریخ کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے چیلنج کرتی ہے۔

حضرت زہراؑ کا مخفی مزار عدمِ حضور نہیں بلکہ ایک طاقتور اور فعّال موجودگی ہے، ایک ایسا خاموش پیمانہ جو ایمان کی گہرائی کو پرکھتا ہے۔ یہ قبر اپنی پوشیدگی میں ہی ایسا منبر ہے جو بلند آواز میں اعلان کرتی ہے کہ "عدل آخرکار غالب آئے گا اور جب یہ مزار ظہور کے دن آشکار ہوگا، تو وہ لمحہ دراصل سب سے بڑی الٰہی وعدے کی تکمیل ہوگا، یعنی حق کی آخری اور ابدی فتح اور امام مهدیؑ کی قیادت میں عدلِ جهانی کا قیام۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حضرت فاطمہ زہرا پوشیدہ مزار امتحان اور کے درمیان ایک سیاسی نہیں بلکہ ایمان کے کی علامت کی وصیت اور ایک مزار کی کے مزار کہ حضرت کرتی ہے کے ساتھ یہ عمل کے لیے یوں یہ سے ایک

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ