data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے ذمہ دار محکمہ نوادرات و آثارِ قدیمہ اور محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و محفوظات کی کارکردگی ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق دونوں محکمے دو اہم ہیریٹیج عمارتوں کی مسماری روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔محکمہ جاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام نے کارروائی کی کوشش کی، مگر ماتحت عملے کی سستی، مبینہ اثراندازی اور انتظامی کمزوریوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ میڈیا نمائندگان کی جانب سے فراہم کردہ واضح شواہد ہونے کے باوجود بروقت قانونی قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔اندرونی اطلاعات کے مطابق ایک بااثر شخص، جسے محکمہ جاتی حلقوں میں فیصل ہاشمی کے نام سے پہچانا جاتا ہے، کا نام سامنے آتے ہی کئی افسران واضح طور پر دباؤ اور بے بسی کا شکار دکھائی دیے۔ تاہم اس سلسلے میں کسی جانب سے سرکاری طور پر الزام یا مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ان ہی مبینہ اثرات کے باعث نہ صرف دو تاریخی عمارتیں نقصان کا شکار ہوئیں بلکہ مزید دو ہیریٹیج عمارتوں کے لیے بھی مسماری کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ محکمے کے بعض افراد اس صورتحال کو “انتظامی رٹ کی کمزوری” قرار دے رہے ہیں۔بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ فیصل ہاشمی ماضی میں ضلع جنوبی کے متنازعہ مبینہ “پٹہ سسٹم” سے قریب رہا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں بھی کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا، مگر ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے غیر رسمی اثرات شہر کے تاریخی ورثے کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ہیریٹیج ایکسپرٹس نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر اپنے اداروں کی رٹ بحال نہ کی تو کراچی کی بیش قیمت تاریخی عمارتیں تیزی سے معدوم ہو جائیں گی۔ ان کے مطابق شہر کی کئی عمارتیں پہلے ہی نجی مفادات اور غیر قانونی سرگرمیوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔محکمہ ثقافت، سیاحت، اور محکمہ نوادرات و آثارِ قدیمہ کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ تمام معاملات کی چھان بین جاری ہے اور کارروائی متعلقہ قوانین کے مطابق کی جائے گی۔

مانیٹرنگ ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق

فائل فوٹو۔

ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔ 

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔ 

بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔

والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق