محکمہ نوادرات و آثارِ قدیمہ ‘محکمہ ثقافت بااثر عناصر کے سامنے بے بس
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے ذمہ دار محکمہ نوادرات و آثارِ قدیمہ اور محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و محفوظات کی کارکردگی ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق دونوں محکمے دو اہم ہیریٹیج عمارتوں کی مسماری روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔محکمہ جاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام نے کارروائی کی کوشش کی، مگر ماتحت عملے کی سستی، مبینہ اثراندازی اور انتظامی کمزوریوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ میڈیا نمائندگان کی جانب سے فراہم کردہ واضح شواہد ہونے کے باوجود بروقت قانونی قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔اندرونی اطلاعات کے مطابق ایک بااثر شخص، جسے محکمہ جاتی حلقوں میں فیصل ہاشمی کے نام سے پہچانا جاتا ہے، کا نام سامنے آتے ہی کئی افسران واضح طور پر دباؤ اور بے بسی کا شکار دکھائی دیے۔ تاہم اس سلسلے میں کسی جانب سے سرکاری طور پر الزام یا مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ان ہی مبینہ اثرات کے باعث نہ صرف دو تاریخی عمارتیں نقصان کا شکار ہوئیں بلکہ مزید دو ہیریٹیج عمارتوں کے لیے بھی مسماری کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ محکمے کے بعض افراد اس صورتحال کو “انتظامی رٹ کی کمزوری” قرار دے رہے ہیں۔بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ فیصل ہاشمی ماضی میں ضلع جنوبی کے متنازعہ مبینہ “پٹہ سسٹم” سے قریب رہا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں بھی کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا، مگر ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے غیر رسمی اثرات شہر کے تاریخی ورثے کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ہیریٹیج ایکسپرٹس نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر اپنے اداروں کی رٹ بحال نہ کی تو کراچی کی بیش قیمت تاریخی عمارتیں تیزی سے معدوم ہو جائیں گی۔ ان کے مطابق شہر کی کئی عمارتیں پہلے ہی نجی مفادات اور غیر قانونی سرگرمیوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔محکمہ ثقافت، سیاحت، اور محکمہ نوادرات و آثارِ قدیمہ کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ تمام معاملات کی چھان بین جاری ہے اور کارروائی متعلقہ قوانین کے مطابق کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات شدید تحریک انصاف گلگت بلتستان انٹری نواز شریف وی نیوز