چین :جوہری دھماکے برداشت کرنے کے قابل جزیرے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین 78ہزار ٹن وزنی مصنوعی جزیرہ تعمیر کر رہا ہے جو جوہری دھماکوں کے اثرات کو برداشت کرنے کے قابل ہوگا۔ اس جزیرے میں 238 افراد بغیر نئی فراہمی کے 4 ماہ تک رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ جزیرہ چین کے فوجیان ایئرکرافٹ کیریئر کے برابر سائز کا ہوگا اور یہ متوقع طور پر 2028 تک فعال ہوجائے گا۔ یہ 6 سے 9 میٹر بلند لہروں اور کٹیگری 17 کے طوفانوں کو برداشت کر سکے گا جو سب سے طاقتور ٹراپیکل سائیکلونز میں شمار ہوتے ہیں۔ پروجیکٹ کی قیادت کرنے والے ماہر لن ڑونگچن نے کہا کہ ہم ڈیزائن اور تعمیر مکمل کرنے کی دوڑ میں ہیں اور 2028 تک اسے عملی شکل دینے کا ہدف رکھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔