جنوبی کوریا میں جہاز چٹانوں سے ٹکرا کر پھنس گیا‘ ڈوبنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیول (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوبی کوریا کے ساحل کے قریب مسافر بردار جہاز چٹانوں سے ٹکرا کر پھنس گیا ،جس کے بعد غرقاب ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق 26ہزار ٹن وزنی یہ فیری جزیرہ جیجو سے روانہ ہو کر بندرگاہی شہر موکپو جا رہی تھی۔ واقعہ شینان کاؤنٹی کے جزیرہ جانگسان کے قریب پیش آیا جہاں جہاز غیر آباد جزیرے جکدو کے پاس چٹانوں سے ٹکرا گیا۔یاد رہے کہ حادثے کی جگہ وہی ہے جہاں 2014 ء میں بدنام زمانہ سیوول فیری ڈوبنے سے 300 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ جہاز کو لگنے والے جھٹکوں کے باعث 27 افراد معمولی زخمی ہوئے تاہم خوش قسمی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جہاز میں سوار تمام 267 مسافروں اور عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔