حضرت فاطمہؑ نے مختصر مگر بابرکت زندگی میں وقت کے بہترین انتظام سے انمٹ نقوش رقم فرمائے، آقائے رفیعی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق مراسم میں حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے سیرتِ حضرت فاطمہؑ میں وقت کے انتظام (Time Management)" کے موضوع پر خطاب کیا۔ اسلام ٹائمز۔ حضرت فاطمہؑ کی شبِ شہادت کے موقع پر حسینیہ امام خمینیؒ تھران میں عزاداری کی تیسری شب کے مراسم میں ہزاروں عقیدتمندوں اور متعدد حکومتی ذمہ داران اور تینوں قوتوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق مراسم میں حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے سیرتِ حضرت فاطمہؑ میں وقت کے انتظام (Time Management)" کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے بے مقصدگی، بے نظمی، اولویت اور ترجیحات کے نہ ہونے اور جلد بازی جیسے عوامل کو وقت کے ضیاع کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت صدیقہ کبریٰؑ نے صدقٖ نیت، مقصدیت، درست اولویت بندی، اور وقت کے جامع استعمال کے ذریعے اپنی مختصر مگر بابرکت عمر میں اسلامی معاشرے اور نبوی خاندان کے لیے عظیم خدمات انجام دیں، اور تبیین، روشنگری اور دفاعِ ولایت کے میدان میں مؤثر قدم اٹھائے۔ اس مجلس میں میثم مطیعی نے بھی بانوئے دو عالم، حضرت فاطمہؑ کے مصائب پڑھے، نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حضرت فاطمہ وقت کے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔