Islam Times:
2026-07-24@07:03:00 GMT

ہتھیار ڈالنے کی ڈیڈ لائن

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

ہتھیار ڈالنے کی ڈیڈ لائن

اسلام ٹائمز: یوکرین آج ایک مہلک مثلث میں گرفتار ہو چکا ہے: ٹرمپ کی جانب سے بے رحمانہ اور یکطرفہ دباو جو اپنے کل کے اتحادی کو مکمل طور پر ہتھیار پھینک دینے پر مجبور کر رہا ہے اور یورپ سے مکمل چشم پوشی کر رکھی ہے، یورپ کی سستی اور صرف مالی اور فوجی امداد تک اکتفا اور اندرونی سطح پر زیلنسکی کی کمزوری اور کرپشن کا بحران۔ اس سہ طرفہ بند گلی کا نتیجہ صرف ایک چیز ہے اور وہ بے معنی قتل و غارت کا تسلسل، انفرااسٹرکچر کی مزید تباہی اور روزانہ سینکڑوں فوجیوں اور عام شہریوں کی ہلاکت ہے۔ دوسری طرف جان لیوا سردی ان کروڑوں یوکرینی شہریوں کی جانوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے جو بجلی سے محروم ہیں۔ جب تک ٹرمپ اپنی توہین آمیز ڈیڈ لائن، یورپ اپنی بے عملی اور زیلنسکی اپنی خیالی ریڈ لائنز سے پیچھے نہیں ہٹتے، امن کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔ تحریر: مہدی سیف تبریزی
 
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے 21 نومبر کے دن کیف کے صدارتی محل میں تقریر کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ 28 نکاتی جنگ بندی منصوبے کو "مکمل طور پر ناممکن" قرار دیا اور اسے قبول کرنے کو یوکرین کا وقار، خودمختاری اور مستقبل قربان کر دینے کے مترادف جانا۔ کچھ ہی گھنٹے بعد وائٹ ہاوس نے معمول سے ہٹ کر ایک بیانیہ جاری کیا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ یوکرین کے پاس ٹرمپ کے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے کو قبول کرنے کی آخری مہلت، امریکہ کا یوم شکر گزاری (27 نومبر) ہے اور اگر اس نے اس مدت میں یہ منصوبہ قبول نہ کیا تو اس کی تمام تر فوجی، مالی، انٹیلی جنس اور لاجسٹک سپورٹ ایک ہی رات میں اور ہمیشہ کے لیے بند کر دی جائے گی۔ یہ توہین آمیز ڈیڈ لائن ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین جنگ کو چوتھا سال شروع ہو چکا ہے۔
 
اس وقت یوکرین کی صورتحال یہ ہے کہ وہ چار سال کی جنگ کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر لوڈ شیڈنگ، فوجی ہتھیاروں کی شدید کمی اور بربادی کے دہانے پر پہنچی معیشت سے روبرو ہے۔ اب وہ اپنی تاریخ کے مہلک ترین دو راہے پر کھڑا ہے: یا تو اسے امریکہ کا پیش کردہ جنگ بندی منصوبہ قبول کرنا پڑے گا جس کے نتیجے میں وہ اپنی سرزمین، فوج اور سلامتی سے محروم ہو جائے گا اور یا امریکہ کی حمایت مکمل طور پر گنوا دینے کے لیے تیار ہونا پڑے گا۔ وہ منصوبہ جسے ڈونلڈ ٹرمپ بہت فخر سے "جیت جیت راہ حل" قرار دے رہا ہے درحقیقت یوکرین کی جانب سے یکطرفہ طور پر ہتھیار پھینک دینے کی دستاویز ہے اور مکمل طور پر اس کے نقصان میں ہے۔ اس منصوبے کے اہم نکات یہ ہیں: جزیرہ کریمہ اور مقبوضہ علاقے مستقل طور پر روس کے حوالے کر دینا، یوکرین فوج کو پچاس فیصد چھوٹا کر دینا، نیٹو میں رکنیت کی مستقل ممانعت، یوکرین پر مستقل نظارت۔
 
یورپ اور زیلنسکی، فراوان نعرے اور عمل نہ ہونے کے برابر
وائٹ ہاوس کی جانب سے یوکرین کے لیے سرینڈر کر جانے کی ڈیڈ لائن اعلان ہونے کے چند ہی گھنٹے بعد سفارتی کالیں شروع ہو گئیں۔ فردریش مرٹز، ایمونوئیل میکرون، کیر اسٹارمر، اورزولا فنڈر لائن اور کایا کالاس، سب نے یکزبان ہو کر امریکی منصوبے کو "ناقابل قبول" اور "یورپ کی سلامتی کے لیے نقصان دہ" نیز "جارح طاقت کو انعام دینے کے مترادف" قرار دے دیا۔ اسی طرح انہوں نے زیلنسکی سے غیر متزلزل حمایت کا وعدہ بھی کیا۔ لیکن ان پرجوش نعروں کے پیچھے کوئی واضح روڈمیپ نہیں پایا جاتا۔ یورپ سالانہ 100 ارب یورو سے زیادہ یوکرین کی مدد کر رہا ہے جس کا زیادہ تر حصہ اسلحہ خریدنے، فوجیوں کی تنخواہیں دینے اور یوکرین کے بجٹ کا خسارہ پورا کرنے میں صرف ہوتا ہے۔ لیکن اب تک جنگ میں فتح سے متعلق کوئی واضح منظرنامہ نہیں پایا جاتا۔
 
مرٹس نے ٹرمپ سے کہا کہ وہ ڈیڈ لائن آگے بڑھا دے، ایمونوئیل میکرون نے "ایک چپہ سرزمین دیے بغیر امن" پر زور دیا اور فنڈر لائن نے اپنا پرانا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ "یوکرین کے بغیر یوکرین سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا"۔ لیکن یہ تمام بیانات ایک راہ حل کی بجائے وقت خریدنے اور اتحاد کی فیس سیونگ کی کوشش ہے۔ عمل کے میدان میں یورپ اب بھی حتی امریکہ کے ساتھ بند کمرے میں ایک نشست بھی منعقد نہیں کر پا ہے چہ جائیکہ ایک مکتوب اور قابل دفاع پیشکش کے ذریعے ٹرمپ کو ڈیڈ لائن موخر کرنے پر مجبور کر سکے۔ کیف میں بھی زیلنسکی نے اسی ہمیشگی لہجے میں ہر قسم کی مفاہمت قبول کرنے کو "قتل ہونے والوں کے خون سے غداری" قرار دیتے ہوئے کہا: "ہم اپنی نسلوں کو بیرونی دباو کی بھینٹ چڑھانا نہیں چاہتے۔"
 
کرپشن، واشنگٹن کا دباو اور اعتماد کا فقدن
ٹرمپ کی جانب سے ڈیڈ لائن کے اعلان کے ساتھ ہی زیلنسکی کے قریبی حلقوں کی کرپشن کے اسکینڈل بھی منظرعام پر آئے ہیں۔ انرجی اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے منصوبوں میں 100 ملین ڈالر کی کرپشن، زینلسکی کے پرانے شریک تیمور میندیچ کا اپنے اہلخانہ سمیت ملک سے فرار ہو جانا، وزیر انرجی اور وزیر انصاف کے اچانک استعفے، سرکاری عہدیداروں کے گھروں میں بڑے پیمانے پر نقد پیسوں کی برآمد اور حتی مغربی مالی امداد سے دوبئی اور لندن میں انتہائی مہنگی پراپرٹی خریدے جانے کی رپورٹس نے حکومت پر عوام کا اعتماد چکناچور کر ڈالا ہے۔ اسٹیو ویٹکوف، امریکی ایلچی نے فاکس نیوز پر کہا کہ ہم امریکہ کے ٹیکس دہندگان کا پیشہ زیلنسکی کی گینگ کو مزید نہیں دے سکتے۔ یوکرین کی پارلیمنٹ میں 2022ء کے بعد پہلی بار صدر کے خلاف مظاہرہ ہوا ہے۔
 
سہ طرفہ بند گلی اور حقیقی قربانی
یوکرین آج ایک مہلک مثلث میں گرفتار ہو چکا ہے: ٹرمپ کی جانب سے بے رحمانہ اور یکطرفہ دباو جو اپنے کل کے اتحادی کو مکمل طور پر ہتھیار پھینک دینے پر مجبور کر رہا ہے اور یورپ سے مکمل چشم پوشی کر رکھی ہے، یورپ کی سستی اور صرف مالی اور فوجی امداد تک اکتفا اور اندرونی سطح پر زیلنسکی کی کمزوری اور کرپشن کا بحران۔ اس سہ طرفہ بند گلی کا نتیجہ صرف ایک چیز ہے اور وہ بے معنی قتل و غارت کا تسلسل، انفرااسٹرکچر کی مزید تباہی اور روزانہ سینکڑوں فوجیوں اور عام شہریوں کی ہلاکت ہے۔ دوسری طرف جان لیوا سردی ان کروڑوں یوکرینی شہریوں کی جانوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے جو بجلی سے محروم ہیں۔ جب تک ٹرمپ اپنی توہین آمیز ڈیڈ لائن، یورپ اپنی بے عملی اور زیلنسکی اپنی خیالی ریڈ لائنز سے پیچھے نہیں ہٹتے، امن کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ٹرمپ کی جانب سے شہریوں کی یوکرین کے یوکرین کی ڈیڈ لائن رہا ہے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم