میں ایسا شخص نہیں جو عورت پر ہاتھ اٹھائے یا بندوق تانے، فیروز خان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار فیروز خان نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران اپنے اوپر لگنے والے الزامات اور ذاتی زندگی سے متعلق اہم گفتگو کی، اداکار کا کہنا تھا کہ میں وہ شخص نہیں جو عورت پر ہاتھ اٹھائے یا بندوق تانے۔
پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فیروز خان نے کہا کہ میری کہانی بہت سادہ ہے، میرا اور ایک لڑکی کا تعلق تھا، ہر رشتے میں اچھے برے دن آتے ہیں لیکن ہمارے برے دنوں میں ایک بہت برا دن بھی آیا۔ شاید وہ ڈر گئی اور اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس کے نتیجے میں مجھے جھوٹے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔
اداکار نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں وہ شخص نہیں ہوں جو کسی عورت کو مارے یا اس پر بندوق تانے۔ اس بات پر میں کسی بھی چیز کی قسم کھا سکتا ہوں۔ میں ایسے مردوں کی عزت نہیں کرتا جو عورت پر بندوق تانیں۔
فیروز خان نے خواتین کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عورت کو ہمیشہ عزت دینی چاہیے اور کبھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے۔ کبھی بھی ان پر طاقت آزمانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والی کسی بھی خاتون ساتھی نے ان کے بارے میں منفی بات نہیں کی۔ جو لوگ میرے ساتھ کام کر چکے ہیں وہ میری صلاحیتوں اور میرے رویّے سے واقف ہیں۔ مجھے دوسروں کی سوچ کی پرواہ نہیں۔
اداکار نے یہ بھی کہا کہ وہ اس طرح کے تنازعات سے گزرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ انڈسٹری کے کئی لوگوں نے کہا کہ اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اس صورتحال میں ٹوٹ چکے ہوتے لیکن میں مضبوطی سے کھڑا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔