اداکار جوڑے نے بیٹی کو اسکول نہ بھیجنے کی وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اداکارہ زارا نور عباس اور اُن کے شوہر اسد صدیقی نے کم عمر بچوں کو اسکول بھیجنے کے معاملے پر اپنی رائے ظاہر کی ہے اور بتایا کہ وہ ابھی اپنی بیٹی کو اسکول نہیں بھیجیں گے۔
اسد صدیقی نے کہا کہ بچوں کو اسکول بھیجنے کی صحیح عمر سات سال ہے اور اس سے قبل اسکول بھیجنا زیادہ درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آجکل کے اسکول زیادہ تر تعلیم کے بجائے کاروباری مقاصد کے لیے چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے فن لینڈ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں بھی بچے سات سال کی عمر میں ہی اسکول جاتے ہیں، اور یہ بات اسلامی تعلیمات کے مطابق بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سات سال کی عمر تک بچہ گھر میں رہ کر بہت سی اہم عادتیں اور زندگی کے اصول سیکھ لیتا ہے، جو اس کی مجموعی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔
زارا اور اسد کے اس موقف سے بہت سے صارفین متفق نظر آئے، جبکہ کچھ نے اختلاف بھی کیا۔
واضح رہے کہ اداکار جوڑے کے ہاں مارچ 2024 میں بیٹی نور جہاں پیدا ہوئی تھی، جس کے بارے میں یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کو اسکول
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔