بھارتی ریاست بہار کے الیکشن میں مودی کی جماعت نے روایتی انتہاپسندی، دھونس، دھمکی اور دھاندلی کے ذریعے فتح حاصل کرلی لیکن مسلم علاقوں میں  بی جے پی کا سارا غرور اور تکبر خاک میں مل گیا۔

بھارتی ریاست بہار کی 243 نشستوں پر مودی کی جماعت نے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تو صحافیوں نے امیت شاہ پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔

جس پر بھارتی وزیر داخلہ اور پارٹی کے سربراہ امیت شاہ نے متکبرانہ انداز میں کہا کہ ہم اُسے ٹکٹ دیتے ہیں جس کی فتح کا کوئی امکان بھی موجود ہو۔

ریاست بہار کی آبادی کے 18 فیصد غیور مسلمانوں کو امیت شاہ کا یہ گھمنڈی بیان ایک آنکھ نہ بھایا اور مسلم علاقوں میں بی جے پی کو شکست دھول چٹادی اور 11 مسلم امیدوار کامیاب ہوگئے۔

خیال رہے کہ بی جے  پی کے برعکس ریاست بہار سے راشٹریہ جنتا دل نے 18، کانگریس نے 10، جنتا دل یونائیٹڈ نے 4 امیدوار اور ایل جے پی (آر) نے ایک مسلمان کو ٹکٹ دیا تھا۔

بہار میں جہاں مقبول مسلم جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد بین المسلمین کے 5 امیدواروں نے فتح حاصل کی وہیں آر جے ڈی سے تین، کانگریس سے دو اور جنتادل یونائیٹڈ کے ایک مسلم امیدوار کو بھی کامیابی ملی۔

یاد رہے کہ ریاست بہار کی 243 نشستوں پر بی جے پی کو 89 جبکہ جنتا دل (يونائیٹڈ) کو 85 اور کانگریس کو صرف 6 سیٹس مل سکیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ریاست بہار

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن