بھارتی ریاست گجرات میں ایک علاقہ ایسا بھی ہے جہاں کے مکین شکل و صورت سے گجراتی تو کیا بھارتی بھی نہیں لگتے اور اپنی ایک علیحدہ شناخت اور تاریخ رکھتے ہیں۔

بھارتی گجرات کے اس عجیب و غریب گاؤں کا نام حمبور ہے جہاں کے زیادہ تر مکین صرف 25 سال قبل یہاں آباد ہوئے، آخر یہ لوگ کہاں سے آئے تھے۔

اس سوال کے جواب کی تلاش میں جب صحافیوں کی ٹیم اس علاقے میں پہنچی تو حیرت انگیز حقائق سامنے آئے۔

چشم کشا رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اس گاؤں کے 80 فیصد باسی نائیجیریا، گھانا اور کینیا سمیت دیگر افریقی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ تمام افراد روزگار کی تلاش میں کسی طرح بھارتی گجرات پہنچے اور اب یہی کے مکین ہوکر رہ گئے یہاں تک کہ افریقی بود و باش کے بجائے بھارتی ثقافت بھی اپنالی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک عام گجراتی کی طرح یہاں کے سیاہ فام اور گھنگریالے بالوں والے افریقیوں کا بھی مرغوب شوق پان اور گٹکا کھانا ہوچکا ہے۔

اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مختلف افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے دراز قد افریقی اب فر فر ہندی بھی بولتے ہیں۔

ان میں سے اکثر نے قانونی دستاویزات بھی بنوالیے ہیں اور چھوٹے موٹے کاروبار کر رہے ہیں۔ 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا