’بونا بھی تو ہے‘ جنوبی افریقی کپتان کے خلاف نامناسب جملے پر بمراہ مشکل میں؟ پابندی کے مطالبات بڑھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایڈن گارڈنز میں جاری پہلے ٹیسٹ کے دوران بھارتی فاسٹ بولر جسپریت بمراہ ایک غیرضروری تبصرے کے باعث شدید تنقید کی زد میں آگئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں بمراہ کو ایل بی ڈبلیو کی اپیل کے بعد جنوبی افریقی کپتان ٹیمبا باووما کے حوالے سے ایسا جملہ (’بونا بھی تو ہے‘) کہتے ہوئے سنا گیا جسے مداحوں نے ’قد پر ذاتی تنقید‘ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: جسپریت بمراہ نے بولنگ رفتار بڑھانے کے لیے کون سے پاپڑ بیلے؟ سابق بھارتی بولنگ کوچ کے انکشافات
اس کلپ کے منظر عام پر آتے ہی شائقین نے بمراہ کے رویے کو کھیل کی اسپرٹ کے خلاف قرار دیا، جبکہ کئی صارفین نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے تبصرے پر ضابطۂ اخلاق کے تحت کارروائی کی جائے۔ تاہم بھارتی شائقین کی بڑی تعداد نے اس واقعے کو محض ’میدانی جذبات‘ قرار دیا ہے۔
Just shock to see the mentality of these hypocrite Crickters of India who talk “bouna he to hai ye” about the WTC Captain Temba Bavuma
ICC should ban them immediately
They are the shame on cricket ????
pic.
— Ameer (@BabarNation56) November 14, 2025
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ آئی سی سی کے قوانین براہِ راست ایسی زبان کو نشانہ بناتے ہیں جو کھلاڑیوں کی تضحیک یا ان کی توہین کا باعث بنے۔ آرٹیکل 2.3 اسٹمپ مائیک یا عوامی نشریات میں سنائی دینے والے نامناسب یا توہین آمیز الفاظ پر لاگو ہوتا ہے، جبکہ آرٹیکل 2.13 کھلاڑی یا میچ آفیشل کے خلاف ذاتی اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے کی پابندی عائد کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی فاسٹ بولر جسپریت بمراہ آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار
ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ صرف چند ماہ قبل ویسٹ انڈیز کے ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی کو آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ٹی وی ایمپائر پر تنقید کرنے پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کرکٹ حلقوں میں بحث جاری ہے کہ آیا بمراہ کا جملہ بھی اسی نوعیت کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایڈن گارڈنز بھارت بونا پابندی جسپریت بمراہ جنوبی افریقہ جنوبی افریقی کپتان ٹیمبا باووما
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈن گارڈنز بھارت پابندی جسپریت بمراہ جنوبی افریقہ جنوبی افریقی کپتان ٹیمبا باووما جسپریت بمراہ کے خلاف
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔