ارشد اقبال نے چھاپوں کے دوران بھارتی فورسز کی طرف سے رہائشیوں کو ہراساں کرنے اور گھریلوں سامان کی توڑ پھوڑ کی بھی مذمت کی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں اور بے گناہ کشمیریوں کی غیر قانونی گرفتاریوں خصوصا حالیہ دنوں میں بھارتی فورسز کی طرف سے تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں اور پروفیشنلز کے خلاف جاری انتقامی مہم کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈوکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں پورے مقبوضہ علاقے میں جاری محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران سینکڑوں کشمیریوں کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر اور جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور چھاپوں کے دوران تقریباً 1500 سے کشمیریوں کو جن میں بیشتر نوجوان شامل ہیں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گرفتار افراد بشمول معالجوں اور آزادی پسند کارکنوں کے خلاف کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

ارشد اقبال نے چھاپوں کے دوران بھارتی فورسز کی طرف سے رہائشیوں کو ہراساں کرنے اور گھریلوں سامان کی توڑ پھوڑ کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو کشمیریوں کیلئے اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی املاک کی ضبطگی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بے اختیار کرنے کی بھارتی حکومت کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔ انہوں نے جھوٹے اور من گھڑت الزامات کی بنیاد پر ڈاکٹروں سمیت معالجوں کو نشانہ بنانے کی بھی مذمت کی۔نئی دلی میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے حالیہ دھماکے کا ذکر کرتے ہوئے ارشد اقبال نے کہا کہ اس واقعے کے فوراً بعد کشمیریوں اور ان کی پرامن جدوجہد آزادی کو بدنام کرنے کے لیے ایک مذموم میڈیا مہم چلائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ بھارت میں جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا الزام بغیر کسی تحقیق کے فورا کشمیریوں پر عائد کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی اور انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور کشمیریوں کو بھارتی ظلم و تشدد سے نجات دلانے کیلئے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے بھارتی حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں اس کی افواج کی طرف سے کیے جانے والے جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کا بھی مطالبہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ارشد اقبال نے کشمیریوں کی کی طرف سے کے دوران انہوں نے مذمت کی کہا کہ

پڑھیں:

بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔

جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا