مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری عوام کو تکلیف کا سامنا ہے: حریت کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری عوام کو تکلیف کا سامنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ترجمان آل پارٹیز حریت کانفرنس عبدالرشید منہاس نے کہا وہ کشمیریوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیے جانے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
ترجمان حریت کانفرنس نے بتایا کہ بھارتی بری فوج، ریزرو پولیس نے ریاست میں مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
عبد الرشید منہاس نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے ادارے غیر قانونی طور پر کشمیریوں کو حراست میں لیے جانے کا نوٹس لے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حریت کانفرنس
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔