صوبائی محتسب اعلیٰ کی ہدایت پر کھلی کچہری کا انعقاد، ملازمین کے مسائل سنے گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مٹیاری(نمائندہ جسارت)صوبائی محتسبِ اعلیٰ سندھ محمد سہیل راجپوت (ستارہ امتیاز) کی ہدایت پر ریجنل ڈائریکٹر (محتسب) سید سجاد حیدر نے سرکاری اور ریٹائرڈ ملازمین کے مسائل اور شکایات کے حل کے لیے آج ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس مٹیاری میں ایک کھلی کچہری منعقد کی۔ اس موقع پر انہوں نے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے مسائل سنے۔اس دوران ایل پی آر کے 62 کیسز نمٹائے گئے، جبکہ کمیوٹیشن/گریجویٹی کے 43 کیسز، جو ریٹائرڈ سرکاری ملازمین سے متعلق تھے، ان کے معاملات بھی حل کر لیے گئے۔ریجنل ڈائریکٹر (محتسب) سید سجاد حیدر نے کہا کہ کھلی کچہری میں شکایت کنندگان کی غیر موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں لوگوں کے مسائل فوری طور پر حل کیے جا رہے ہیں، جو ایک مثبت بات ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر ضلع میں محتسب کے دفاتر قائم کیے ہیں اور وہاں ڈائریکٹر مقرر کیے ہیں تاکہ عوام کے مسائل رنگ، نسل یا کسی سیاسی دباؤ کے بغیر میرٹ کی بنیاد پر حل کیے جائیں۔بعد ازاں انہوں نے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر مٹیاری محمد عثمان شیخ، اکاؤنٹنٹ گل شیر لاشاری، ایڈمن انچارج سید عرفان علی شاہ، سینئر آڈیٹر فیصل پن?ور، وسیم بگھیو اور دیگر نے بھی کھلی کچہری میں شرکت کی۔بعدازں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے وفاقی اور صوبائی سطح پر محتسب کے دفاتر قائم کرکیاور وہاں ریجنل ڈائریکٹر تعینات کی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کھلی کچہری کے مسائل انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔