بجلی تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں، عبداللطیف نظامانی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251112-2-10
سکھر (نمائندہ جسارت)آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے) کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے کہا ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کسی بھی صورت قبول نہیں کی جائے گی، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قربانی دینا پڑے۔انہوں نے کہا کہ واپڈا میں ایک لاکھ سے زائد ملازمین کی آسامیاں خالی ہیں، جبکہ حکومت نے نئی بھرتیاں بند کر رکھی ہیں، جس کی وجہ سے موجودہ ملازمین پر کام کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ب ایک ملازم سے دس ملازمین کا کام لیا جا رہا ہے اور ملازمین پر کہا جا رہا ہے کہ ریکوری بڑھائیں۔ اگر واقعی ریکوری بڑھانی ہے تو پہلے نئی بھرتیاں کی جائیں اور ملازمین کو ان کے جائز مراعات دی جائیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ ملازمین کی شدید قلت کے باوجود واجبات اور مراعات میں کٹوتی کی جا رہی ہے، جس کے سبب ملازمین پر شدید ذہنی اور جسمانی دباو ہے اور کام کے دوران حادثات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔یہ بیانات عبد اللطیف نظامانی نے سیپکو رجن سکھر کے زیر اہتمام مقامی ہال میں منعقدہ جلسہ عام کے دوران دئیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔