data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارتی فضائیہ نے لداخ کے انتہائی حساس اور چینی سرحد کے قریب واقع علاقے میں ایک نیا ایئربیس فعال کرکے خطے میں ایک نئی اسٹریٹجک پیش رفت کی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس سرگرمی کے ذریعے بھارت نے نہ صرف اپنی فضائی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی ہے بلکہ چین کے ساتھ جاری طویل کشیدگی کے پس منظر میں اپنی عسکری موجودگی بھی نمایاں طور پر بڑھا دی ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل اے پی سنگھ نے بذاتِ خود سی-130 طیارے میں اس نئے ایئربیس مڈھ نیوما پر افتتاحی لینڈنگ کی، جسے بھارت انتہائی مشکل جغرافیائی حالات کے باوجود ایک بڑا عسکری سنگ میل قرار دے رہا ہے۔

یہ ایئربیس سطح سمندر سے 13 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے، جس کے باعث اسے نہ صرف تکنیکی اعتبار سے ایک غیرمعمولی تعمیر مانا جا رہا ہے بلکہ اسے چین کے ساتھ سرحدی تناؤ کے تناظر میں ایک اہم اضافہ کہا جا رہا ہے۔

بھارتی وزارت دفاع کے حکام نے شناخت چھپاتے ہوئے بتایا کہ مڈھ نیوما خطے کا تیسرا بڑا فضائی اسٹیشن ہے جو لائن آف ایکچوئیل کنٹرول (ایل اے سی) سے صرف 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حکام کے مطابق اس بیس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک آپریشنز بلکہ جنگی طیاروں کا استعمال بھی ممکن ہوگا، جس کا براہ راست مقصد چینی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر فوری ردعمل کے امکانات کو مضبوط بنانا ہے۔

بھارت کے سابق ایئرمارشل سنجیو کپور نے بھی سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ نیا ایئربیس دونوں پڑوسی ممالک کے لیے ایک واضح پیغام ہے، تاہم انہوں نے کھلے لفظوں میں چین یا پاکستان کا نام لینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے بدلتے حالات میں بھارت کو اپنی فضائی تیاریوں میں اضافہ کرنا ضروری ہے، جبکہ چین کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے اقدامات پہلے سے جاری ہیں، جہاں سرحد کے پار بلندی پر چینی ایئرفیلڈ پہلے ہی موجود ہے۔

یاد رہے کہ لداخ، بھارت اور چین کے درمیان وہی طویل عرصے سے متنازع خطہ ہے جہاں دونوں ممالک کی 3800 کلومیٹر طویل سرحد کئی دہائیوں سے کشیدگی کا محور بنی ہوئی ہے۔

1962 کی جنگ اس تنازع کا سنگین موڑ تھی، جبکہ 2020 میں وادی گلوان میں دونوں فوجوں کے درمیان ہونے والی ہلاکت خیز جھڑپوں نے ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا، جس میں بھارت کو نمایاں جانی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

اگرچہ رواں برس بھارت اور چین نے کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے اور نریندر مودی نے بیجنگ کا دورہ بھی کیا، مگر لداخ میں بھارتی فوجی انفرااسٹرکچر کے حالیہ اضافے سے واضح ہے کہ اعتماد کی فضا مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مڈھ نیوما ایئربیس کے فعال ہونے سے نہ صرف بھارت اپنی عسکری رسائی بڑھا رہا ہے بلکہ یہ قدم خطے میں جاری طاقت کے توازن کو بھی متاثر کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں بھارت رہا ہے

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟