آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس پرسوں، تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
مظفر آباد ( نیوزڈیسک) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا انتہائی اہم اجلاس 17 نومبر بروز پیر طلب کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی، اجلاس میں نئے قائد ایوان کا انتخاب بھی عمل میں لایا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم انوارالحق کے خلاف پیپلزپارٹی نے لابنگ شروع کر رکھی یے، وزیراعظم انوارالحق کو ہٹانے کیلئے بھاری مینڈیٹ کیلئے مزید اراکین اسمبلی سے رابطے جاری ہیں، پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم انوارالحق کے خلاف عددی اکثریت سے زیادہ تعداد موجود ہے۔
مسلم لیگ ن نے وزیراعظم انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے، مسلم لیگ ن اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ بھی کر رکھا ہے۔
خواجہ فاروق احمد کے مطابق تحریک انصاف اس سیاسی عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیراعظم انوارالحق انوارالحق کے خلاف
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :