27 ویں آئینی ترمیم کے تحت ہائیکورٹ ججز کے تبادلوں کی فہرست تیار
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251115-01-9
اسلام آباد (آن لائن) 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت ہائیکورٹ ججز کے تبادلوں کی فہرست تیار کرلی گئی ہیں۔پہلے مرحلے 14 ججزکا ایک سے دوسرے صوبوں میں تبادلہ کیا جائیگا۔جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کے بعد کمیٹی کا اجلاس جلد بلایا جائے گا جس میں اراکین ججز کے تبادلوں سے متعلق تجاویز پر ووٹنگ کریں گے اور اکثریت کا فیصلہ نافذ کیا جائے گا۔ لاہور ہائی کورٹ کے 10 اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 4 ججز کو دوسرے صوبوں میں ٹرانسفر کرنے سے متعلق تیار کی گئی فہرست سامنے آگئی، ججز کو 6 ماہ سے 2 سال تک مختلف صوبائی بنچز میں تعینات کیا جائے گا۔ زیادہ تر ججز کے تبادلے بلوچستان ہائی کورٹ کے بنچ صوابی، سندھ ہائی کورٹ کے لاڑکانہ، سکھر اور میرپور خاص بنچ کے لیے تجویز کیے گئے ہیں جن پر حتمی فیصلہ جوڈیشل کمیشن کرے گا۔ترمیم کی منظوری کے بعد اب ہائی کورٹس کے ججز کے دوسرے صوبوں میں تبادلے کے لیے متعلقہ جج سے مشاورت ضروری نہیں رہی، نئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے بعد مجموعی طور پر لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 14 ججز کو ملک کے مختلف بنچز میں ٹرانسفر کیا جائے گا۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس فیصل زمان خان، جسٹس شاہد کریم، جسٹس ساجد محمود سیٹھی، جسٹس اسجد جاوید گھرال، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس عاصم حفیظ، جسٹس امجد رفیق، جسٹس انور حسین اور جسٹس راحیل کامران شیخ کا تبادلہ کیا جائے گا۔اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ کے 4 ججز جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار کو بھی دوسرے صوبوں میں بھیجا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہائی کورٹ کے اسلام ا باد کیا جائے گا ججز کے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔