حیدرآباد:ہائی وے پیٹرولنگ پولیس نے 3مسروقہ کاریں برآمدکرلیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251115-08-1
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ہائی وے پیٹرولنگ پولیس نے کارروائیاں کرتے ہوئے 3مسروقہ کاریں برآمدکرکے 3ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی وے پیٹرولنگ پولیس کی ٹنڈو جام ٹول پلازہ پر کارروائی کرکے انچارج ہیڈ کانسٹیبل شوکت علی نے اپلائیڈ مسروقہ کار تحویل میں لے کر ملزم کلیم اللہ ولد شاہ زمان سکنہ ضلع باجوڑ کو حراست میں لے لیا بعد ازاں مذکورہ گاڑی اور ملزمان کو پولیس اسٹیشن اے سیکشن جامشورو منتقل کردیا گیا جبکہ دوسری کارروائی میں ٹنڈو جام ٹول پلازہ پر ہی ویگو گاڑی کو روک اس میں سوار ملزم محمد وسیم ولد محمد سلیم کو گرفتارکرکے ملزم کومسروقہ گاڑی سمیت تھانہ راہوکی پولیس کے حوالے کردیاگیا ۔دوسری جانب ہائی وے پیٹرولنگ سندھ پولیس نے تیسری کارروائی میں این فائیو ٹول پلازہ پرکارروائی کرکے ایک کار کو اپنی تحویل میں لیکر اس میں سوار ملزم مہر اللہ کو گرفتار کرتے ہوئے ملزم کو کار سمیت تھانہ بی سیکشن جامشورو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔