پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی، اور سینیئر رہنما فیصل ممتاز راٹھور کو نیا قائد ایوان نامزد کردیا۔

وزیراعظم چوہدری انوارالحق کو استعفیٰ دینے کا پیغام بھجوایا گیا تھا تاہم انہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کیا، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے گزشتہ ماہ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی منظوری دی تھی۔

آزاد کشمیر کا ایوان 53 ارکان پر مشتمل ہے، جس میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے 27 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اتوار 26 اکتوبر کی رات سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ایک ڈنر کا اہتمام کیا تھا جس میں قانون ساز اسمبلی کے 27 ارکان نے شرکت کی تھی۔

اسی روز آزاد کشمیر کے 10 وزرا جن کا تعلق پی ٹی آئی فارورڈ بلاک سے تھا، فریال تالپور سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئے، یوں پیپلز پارٹی کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہوگئی۔

اس ڈنر کے بعد وزیراعظم چوہدری انوارالحق کو پیغام بھجوایا گیا تھا کہ وہ عہدے سے استعفیٰ دے دیں ورنہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائےگی۔

آئین کے مطابق تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد 7 روز کے اندر ووٹنگ ہونا ضروری ہے۔

صدر ریاست 7 روز کے اندر اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہیں، جس کے بعد اسپیکر عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کراتے ہیں۔

اگر تحریک کامیاب ہو جائے تو نیا قائد ایوان (جس کا نام عدم اعتماد کی تحریک میں درج ہوتا ہے) منتخب ہو جاتا ہے۔

اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے تو ایسی صورت میں آئندہ 6 ماہ تک تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی جا سکتی۔

واضح رہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں 5 سالہ آئینی مدت میں یہ چوتھا وزیراعظم ہوگا، اس سے قبل 3 وزرائے اعظم کرسی اقتدار سے جا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے خلاف تحریک عدم اعتماد چوہدری انوارالحق پیپلز پارٹی کے بعد

پڑھیں:

رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق  حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع