وزیر اعظم آزاد کشمیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد آج جمع کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
گذشتہ رات پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ممبران اسمبلی کو بتا دیا تھا کہ وہ مظفرآباد پہنچ جائیں جہاں آج (14 نومبر) کو کسی بھی وقت تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جائے گی، اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چودھری انوار الحق کے خلاف آج قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد پیپلزپارٹی، نواز لیگ اور فارورڈ بلاک کے منحرف ارکان مشترکہ طور پر جمع کرائیں گے۔ گذشتہ رات پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ممبران اسمبلی کو بتا دیا تھا کہ وہ مظفرآباد پہنچ جائیں جہاں آج (14 نومبر) کو کسی بھی وقت تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جائے گی، تحریک عدم اعتماد پر مسلم لیگ نواز کے ارکان اسمبلی کے دستخط موجود ہونے کے ساتھ ساتھ ہی نئے وزیراعظم کا نام بھی درج ہو گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ وزیراعظم چودھری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد 30 ارکان اسمبلی سے زائد کی حمایت سے کامیاب کرائیں گے، تحریک عدم اعتماد جمع ہوتے ہی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس تین سے سات ایام کے اندر ہو گا اور باضابطہ طور پر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی۔
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں کل 53 ارکان اسمبلی ہیں جن میں سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی محمد اقبال برطانیہ میں قیام کی وجہ سے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے، یوں 52 کے ایوان میں پیپلز پارٹی کے پاس 17، مسلم لیگ نواز 9، فارورڈ بلاک 10، پاکستان تحریک انصاف 5، جموں کشمیر پیپلز پارٹی 1 اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پاس ایک نشست ہے۔ یاد رہے کہ چودھری انوار الحق 20 اپریل سال 2023ء میں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے، یوں وہ دو سال اور چھ ماہ سے زائد عرصہ تک اقتدار میں رہے، ان کا انتخاب بھی مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک، پاکستان تحریک انصاف اور مسلم کانفرنس نے ملکر عمل میں لایا تھا۔
وزیراعظم چودھری انوار الحق کے دور میں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے اور اس دوران 20 کے قریب لوگ اور پولیس اہلکار جاں بحق بھی ہو گئے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیراعظم کے مضبوط امیدوار پارٹی کے صدر چودھری محمد یاسین، سپیکر قانون ساز اسمبلی چودھری لطیف اکبر اور وزیر لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی فیصل راٹھور ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد جمع پاکستان پیپلز پارٹی چودھری انوار الحق قانون ساز اسمبلی
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔