گذشتہ رات پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ممبران اسمبلی کو بتا دیا تھا کہ وہ مظفرآباد پہنچ جائیں جہاں آج (14 نومبر) کو کسی بھی وقت تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جائے گی، اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چودھری انوار الحق کے خلاف آج قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد پیپلزپارٹی، نواز لیگ اور فارورڈ بلاک کے منحرف ارکان مشترکہ طور پر جمع کرائیں گے۔ گذشتہ رات پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ممبران اسمبلی کو بتا دیا تھا کہ وہ مظفرآباد پہنچ جائیں جہاں آج (14 نومبر) کو کسی بھی وقت تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جائے گی، تحریک عدم اعتماد پر مسلم لیگ نواز کے ارکان اسمبلی کے دستخط موجود ہونے کے ساتھ ساتھ ہی نئے وزیراعظم کا نام بھی درج ہو گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ وزیراعظم چودھری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد 30 ارکان اسمبلی سے زائد کی حمایت سے کامیاب کرائیں گے، تحریک عدم اعتماد جمع ہوتے ہی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس تین سے سات ایام کے اندر ہو گا اور باضابطہ طور پر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں کل 53 ارکان اسمبلی ہیں جن میں سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی محمد اقبال برطانیہ میں قیام کی وجہ سے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے، یوں 52 کے ایوان میں پیپلز پارٹی کے پاس 17، مسلم لیگ نواز 9، فارورڈ بلاک 10، پاکستان تحریک انصاف 5، جموں کشمیر پیپلز پارٹی 1 اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پاس ایک نشست ہے۔ یاد رہے کہ چودھری انوار الحق 20 اپریل سال 2023ء میں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے، یوں وہ دو سال اور چھ ماہ سے زائد عرصہ تک اقتدار میں رہے، ان کا انتخاب بھی مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک، پاکستان تحریک انصاف اور مسلم کانفرنس نے ملکر عمل میں لایا تھا۔

وزیراعظم چودھری انوار الحق کے دور میں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے اور اس دوران 20 کے قریب لوگ اور پولیس اہلکار جاں بحق بھی ہو گئے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیراعظم کے مضبوط امیدوار پارٹی کے صدر چودھری محمد یاسین، سپیکر قانون ساز اسمبلی چودھری لطیف اکبر اور وزیر لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی فیصل راٹھور ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد جمع پاکستان پیپلز پارٹی چودھری انوار الحق قانون ساز اسمبلی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ