بچوں کو مہنگی کتابیں ، کاپیاں اور یونیفارم بیچنے والے نجی سکولوں کی شامت آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )ملک میں نجی اسکولوں کے لوگو والی نوٹ بکس، ورک بک اور یونیفارم کی مشروط فروخت پر کمپٹیشن کمیشن نے 17 بڑے نجی اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹسز جاری کردیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے ملک کے 17 بڑے نجی اسکول سسٹمز کو تعلیمی شعبے میں اپنی اجارہ داری کا غلط استعمال کرتے ہوئے طلبہ اور والدین کو اسکول کے لوگو والی مہنگی نوٹ بُکس، ورک بُکس اور یونیفارمز صرف اسکول یا اسکول کے منظور شدہ دکانوں سے خریدنے پر مجبور کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کردیے ہیں۔
بھارت نے آخر کار امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے
کمپٹیشن کمیشن نے ایسے اسکولوں کے خلاف شکایات موصول ہونے پر سوموٹو اقدام کرتے ہوئے انکوائری کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ انکوائری میں اس بات کے واضح ثبوت ملے کہ یہ اسکول سسٹمزاپنی ہزاروں کی تعداد میں قائم تمام برانچوں اور فرنچائزز میں زیر تعلیم لاکھوں طلبہ اور نئے داخلے حاصل کرنے والے طلبہ کو اسکول کی ہی کاپیاں، یونیفارم اور ورک بک اسکول سے یا مخصوص دکانوں سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ان اسکولوں نے گائیڈ لائنز اور پالیسی کے نام پر اسکول کی اپنی پراڈکٹ کی خریداری کے لیے سخت اصول لاگو کر رکھے ہیں اور والدین کے پاس کھلے بازار سے نسبتاً سستے داموں متبادل کاپیاں اور دیگر تعلیمی پراڈکٹ خریدنے کا کوئی اختیار نہیں رہتا ہے۔
35 دن اغواء رہا، جب گھر واپس پہچا تو سب سے پاؤں پکڑ کے معافی مانگی: حسن احمد
کمپٹیشن کمیشن کی جانب سے جن اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹسز جاری ہوئے ہیں ان میں بیکن ہاؤس اسکول سسٹم، دی سٹی اسکول، ہیڈ اسٹارٹ، لاہور گرامر اسکول، فروبلز، روٹس انٹرنیشنل، روٹس ملینیم، کے آئی پی ایس، الائیڈ اسکولز، سپرنوا، دارارقم، اسٹپ اسکول، ویسٹ منسٹر انٹرنیشنل، یونائیٹڈ چارٹرڈ اسکول اور دی اسمارٹ اسکول شامل ہیں۔
یہ ادارے ملک بھر میں سیکڑوں کیمپسز چلاتے ہیں اور وسیع تعداد میں طلبہ پر اثر انداز ہوتے ہیں جس کے باعث ان کے پاس نمایاں مارکیٹ طاقت موجود ہے۔
کمیشن نے ان تمام اسکول سسٹمز کو 14 دن کے اندر اپنا تحریری جواب جمع کرنے کی ہدایت کی ہے۔کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں جواب جمع نہ کرانے کی صورت میں یک طرفہ کارروائی کی جائے گی اور قانون کے مطابق کمپٹیشن کمیشن تجارتی ادارے کے سالانہ ٹرن اوور کا 10 فیصد یا 750 ملین روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
پاکستانی نوجوان کی محبت میں گرفتار ہو کر پولینڈ کی لڑکی پاکستان پہنچ گئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسکول سسٹمز کو کمپٹیشن کمیشن
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک