نائیجریا میں ایک اسکول سے 200 سے زائد طلبہ کو اغوا کرلیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نائیجریا میں بڑے پیمانے پر اغوا کا واقعہ جمعہ کو پیش آیا جہاں شمال مغرب میں واقع ایک کیتھولک اسکول سے مسلح افراد نے 227 طلبہ کو اسلحہ کے زور پر اغوا کرلیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کرسچن ایسوسی ایشن آف نائیجیریا نے کیتھولک اسکول سے طلبہ کی بڑی تعداد کے اغوا کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ جمعہ کو طلبہ کے اغوا کا واقعہ 2024 کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا واقعہ ہے، اس سے قبل 2024 میں کدانا ریاست میں 200 کے قریب طلبہ کو اغوا کیا گیا تھا۔

کرسچن ایسوسی ایشن کے چیئرمین کا کہنا ہےکہ انہوں نے واقعے کے بعد اس اسکول کا دورہ کیا ہے، اس واقعے کے وقت کچھ طلبہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم طلبہ کی بڑی تعداد کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا۔

کرسچن ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے کہا کہ ہمارے ریکارڈ میں 215 طلبہ اور 12 اساتذہ کو اغوا کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پولیس اور مقامی انتظامیہ نے سینٹ میری اسکول سے طلبہ اور اساتذہ کو اغوا کرنے کے واقعے کی تصدیق کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اغوا کرلیا اسکول سے طلبہ کو کو اغوا

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود