بلومبرگ کا پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
علامتی فوٹو
عالمی جریدہ بلومبرگ کی جانب سے پاکستان کی معیشت اور اِس پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا اعلان کیا گیا ہے۔
بلومبرگ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ڈالر بانڈز کی قدر میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے، رواں سال پاکستان کا ڈالر بانڈز 24.5 فیصد منافع کے ساتھ ایشیا میں سرفہرست رہا۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستان پچھلے دوسال کی نسبت اب عالمی قرض مارکیٹ میں واپسی کے لیے تیار ہے، ایس اینڈ پی گلوبل اور فچ ریٹنگز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ کی ہے جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت ملی۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا رواں سال یوآن بانڈز اور 2026ء میں یورو بانڈ مارکیٹ میں واپسی کا منصوبہ بھی تیار ہے، پاکستانی ڈالر بانڈز کی عالمی مارکیٹ میں واپسی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد دُگنا کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔