پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی سیاسی و عسکری قیادت کی کمزوریاں بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
بھارتی ایئرلائنز کو افغانستان کے ساتھ فضائی تجارت کے دعوے مضحکہ خیز قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ پاکستان کے بغیر کسی بڑی ائیرلائن کی کھپت برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہے اوربھارتی عسکری قیادت کی جانب سے سابقہ ’’ٹریلر‘‘ بیانات کے برعکس عملی میدان میں بار بار ناکامیوں نے نریندر مودی سرکار کی پالیسیوں کو اہم سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کی جانب سے بلند بانگ دعوؤں اور جارحانہ بیانیے کے برعکس پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایوی ایشن سمیت سیاسی و عسکری قیادت کی کمزوریاں بے نقاب کر دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آپریشن سندور میں تاریخی ناکامی اور مسلسل مالی نقصان کے بعد بھارتی حکومت شدید دباؤ اور بوکھلاہٹ کا شکار دکھائی دے رہی ہے اور بھارتی میڈیا چینل ریپبلک نیوز نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے فضائی حدود بند کیے جانے کے بعد ائیر انڈیا کو 4 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ائیر انڈیا نے اس نقصان کی تلافی کے لیے بھارتی حکومت سے معاوضے کی درخواست بھی کر دی ہے، بھارتی چینل کے مطابق پاکستان کی فضائی پابندی کے باعث ائیر انڈیا کو چین کی فضائی حدود استعمال کرنے کے لیے حکومت سے باقاعدہ منظوری لینا پڑ رہی ہے اور طویل روٹس کی وجہ سے اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔
بھارتی ایئرلائنز کو افغانستان کے ساتھ فضائی تجارت کے دعوے مضحکہ خیز قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ پاکستان کے بغیر کسی بڑی ائیرلائن کی کھپت برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہے اوربھارتی عسکری قیادت کی جانب سے سابقہ ’’ٹریلر‘‘ بیانات کے برعکس عملی میدان میں بار بار ناکامیوں نے نریندر مودی سرکار کی پالیسیوں کو اہم سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ بھارتی عسکری قیادت کا حالیہ بیانیہ خود اس کی ناکامی کا اعلانیہ اعتراف بنتا جا رہا ہے، معرکہ حق اور آپریشن سندور میں پاکستان کی مؤثر فضائی حکمتِ عملی نے نہ صرف بھارتی فوجی عزائم کو ناکام بنایا بلکہ معاشی محاذ پر بھی بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بھارتی ایوی ایشن سیکٹر بارہا اعتراف کر چکا ہے کہ پاکستان کی فضائی بندش نے بھارت کو اربوں روپے کے نقصانات سے دوچار کیا ہے اور بھارت کی اندرونی بوکھلاہٹ شدت اختیار کر گئی ہے، بھارتی سیاسی و عسکری قیادت کو درپیش مسلسل ناکامی، اندرونی دباؤ اور مالی بحران نے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت ہر محاذ پر عبرت ناک شکست کے بعد غیر معمولی اعصابی دباؤ میں ہے اور حکومتی سطح پر پالیسیوں کا بحران نمایاں ہو چکا ہے جبکہ پاکستان کی مؤثر حکمت عملی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ جارحانہ مہم جوئی، غلط بیانی اور پراپیگنڈا حقیقت کے سامنے زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کی فضائی عسکری قیادت کی کہ پاکستان کی جانب سے کر دیا ہے ہے اور
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔