معرکہ حق میں شاندار حکمت عملی، بھارت عسکری میدان کے بعد معاشی محاذ پر بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
بھارتی سیاسی و عسکری قیادت کے کھوکھلے دعوے فضائی ناکامی سے زمین بوس ہوگئے جب کہ بھارتی ڈھکوسلے اور غرور کے برعکس پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے ائیر انڈیا کے چھکے چھڑا دئیے۔
آپریشن سندور میں ہونے والی تاریخی ہزیمت، بھاری مالی نقصان اور فضائی ناکامی سے بھارتی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، معرکہ حق میں پاکستان کی شاندار حکمتِ عملی نے بھارت کو نہ صرف عسکری میدان بلکہ معاشی محاذ پر بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔
فضائی راستوں کی بندش سے 4,000 کروڑ سے زائد کے نقصانات کے باجود افغانستان کیساتھ فضائی راستوں سے تجارت مضحکہ خیز ہے۔
بھارتی عسکری قیادت کی’’ ٹریلر والی گیدڑ بھبکیاں‘‘ اس کی ناکامی کا اعتراف ہے، دوسری طرف کروڑوں روپے میں سبسڈی کا مطالبہ اصل میں بھارت کی ناکام پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بھارتی میڈیا "ریپبلک نیوز "نے معرکہ حق میں ہزیمت اورپاکستان کے ہاتھوں 4ہزار کروڑ روپے کے نقصانات کا اعتراف کرلیا، ائیر انڈیا نے پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے4ہزار کروڑ روپے کا بھارتی حکومت سے مطالبہ کر دیا۔
ریپبلک نیوز کی رپورٹ کے مطابق ائیر انڈیا نے بھاری نقصان سے بچنے کیلئے چین کی فضائی حدود استعمال کرنے کیلئے حکومت سے رجوع کرلیا، آپریشن سندور میں پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ائیرلائن کو طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا۔
بھارتی سیاسی و عسکری قیادت ہر محاذ پر پاکستان سے عبرتناک شکست کے بعد شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی بندش
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔