فیروز خان نے گھریلو تنازعات کی وجہ سے موت کے قریب پہنچنے کا انکشاف کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار فیروز خان نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی ذاتی زندگی اور گھریلو تنازعات کے باعث پیش آنے والی مشکلات پر کھل کر بات کی۔
اداکار نے بتایا کہ پہلی شادی کے ختم ہونے اور طلاق کے بعد وہ ذاتی زندگی کی تنقید اور الزامات کے سبب شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے اور ایک موقع پر وہ اتنے پریشان ہوئے کہ ٹوائلٹ میں بے ہوش ہو گئے اور موت کے قریب پہنچ گئے۔
فیروز خان نے کہا کہ وہ اس دوران اپنے بچوں کو یاد کر رہے تھے، لیکن عدالتی مقدمات اور دیگر مسائل کی وجہ سے ان سے ملاقات ممکن نہیں تھی۔ کیریئر پر بھی اس وقت منفی اثرات پڑے، اور انہوں نے سوچا کہ شاید درزی بن کر کپڑے بیچنا شروع کریں۔
اداکار نے اپنی بازیابی کا سہرا والدہ کی دعاؤں اور پڑھی ہوئی آیت الکرسی کو دیا، جنہوں نے انہیں دوبارہ سنبھالنے میں مدد کی۔
واضح رہے کہ فیروز خان کی پہلی شادی علیزا سلطان سے 2018 میں ہوئی، اور ان کے ہاں 2019 میں بیٹے اور 2022 میں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ 2022 میں طلاق کے دوران علیزا سلطان نے فیروز خان پر سنگین گھریلو تشدد کے الزامات بھی لگائے تھے۔ بعد ازاں فیروز خان نے جون 2024 میں ڈاکٹر زینب سے دوسری شادی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیروز خان نے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔