کراچی ٹریفک پولیس کو ٹریکرز کا کنٹرول نہ دینے والے ڈمپرز اور ٹینکرز پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد میں پولیس کو ٹریکرز کا کنٹرول نا دینے والے ڈمپرز اور ٹینکرز پر پابندی لگادی گئی۔
میدیاذرائع کے مطابق شہرقائد میں ہیوی ٹریفک سے ہونے والے بڑھتے حادثات خصوصاً رزاق آباد کے حالیہ واقعے کے بعد ٹریفک پولیس نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب شہر میں صرف وہی ڈمپر اور واٹر ٹینکر چل سکیں گے جن کے ٹریکرز کا کنٹرول براہِ راست ٹریفک پولیس کے پاس ہوگا۔ کنٹرول نہ دینے والی گاڑیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے بتایا کہ رزاق آباد حادثے کے بعد ڈمپر اور واٹر ٹینکرز پر سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حادثے کا ذمہ دار ڈمپر ٹریکر کے بغیر چل رہا تھا، جس کے باعث بروقت اس کی نقل و حرکت پر نظر نہیں رکھی جا سکی۔ حادثے میں ایک رکشہ ڈرائیور جان کی بازی ہار گیا جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور قریبی دکان سمیت ایک وین کو بھی نقصان پہنچا۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ کراچی میں اب صرف وہی ہیوی وہیکلز چلنے کی اجازت ہوگی جن کا ٹریکر کنٹرول ٹریفک پولیس کے پاس ہوگا۔ کئی ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز پر ٹریکرز نصب ہیں لیکن کنٹرول پولیس کو فراہم نہیں کیا گیا، جس پر بھی اب پابندی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس ٹینکرز پر
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔