مشیر وزیر اعظم اور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اللہ کا نظام ہے کہ انسان جو کرتا ہے وہی بھرتا ہے۔ ایک شخص نے ان پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا تھا اور آج وہی شخص معافی مانگنے پر مجبور ہے، موجودہ مہنگائی حکومت کی پیدا کردہ نہیں بلکہ آئی ایم ایف معاہدے کا نتیجہ ہے جو اپنے آخری سال میں داخل ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں کے بعد 28ویں آئینی ترمیم بھی آ رہی ہے: رانا ثنااللہ نے تصدیق کردی

فیصل آباد کے بوڑیوال روڈ پر سوئی گیس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ملک میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خدمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ نفرت اور بغض کی سیاست نے ملک کو کچھ نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے نام پر فرح گوگی اور پنکی جیسے کردار سامنے آئے۔ معرکہ حق کی کامیابی کے بعد پاکستان کا دنیا بھر میں ریڈ کارپٹ استقبال ہو رہا ہے جبکہ بھارت عالمی سطح پر رسوائی کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ملنے والے اس عزت و وقار سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی غلطیاں دہراتی رہی تو ان کے ساتھ ایک اور 8 فروری ہو جائےگا، رانا ثنااللہ

سعودی عرب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے لیے تن من دھن قربان کرنے کو تیار ہے کیونکہ وہاں بیت اللہ، مکہ، مدینہ اور روضہ رسول موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے بھی واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان پر حملہ سعودیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ موجودہ معاشی دباؤ سابق دور حکومت کے آئی ایم ایف معاہدوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق 2017-18 میں پیٹرول 65 روپے فی لٹر اور ڈالر 107 سے 108 روپے کے درمیان تھا جبکہ عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان نہیں تھا۔ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ سخت شرائط پر معاہدہ کیا جس کا بوجھ آج عوام اٹھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:27ویں کے بعد 28ویں آئینی ترمیم بھی آ رہی ہے: رانا ثنااللہ نے تصدیق کردی

انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو سبسڈی دینا چاہتی تھی لیکن آئی ایم ایف نے اجازت نہیں دی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی ایم ایف پروگرام مکمل ہونے کے بعد عوام کو نمایاں ریلیف ملے گا اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اللہ ملکوں اور قوموں کو عزت دیتا ہے اور آج پاکستان کو جو وقار ملا ہے وہ اسی کی دین ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آئی ایم ایف پی ٹی آئی رانا ثنااللہ ریلیف فیصل آباد گیس مہنگائی وزیراعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف پی ٹی ا ئی رانا ثنااللہ ریلیف فیصل ا باد گیس مہنگائی رانا ثنااللہ نے کہا آئی ایم ایف نے کہا کہ انہوں نے کے بعد

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف