تحریک عدم اعتماد: وزیراعظم آزاد کشمیر انوارالحق استعفیٰ دیں گے یا نہیں؟ خود بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انورالحق نے کہا ہے کہ وہ اسمبلی نہیں توڑیں گے بلکہ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کریں گے۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تحریکِ عدم اعتماد پر رائے شماری کے روز اپنا مؤقف سامنے رکھوں گا، اس لیے مستعفی نہیں ہورہا۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: وزیراعظم انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے لیے اسمبلی اجلاس طلب
انہوں نے بتایا کہ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا تو میں نے واضح طور پر انکار کرتے ہوئے کہاکہ میرے ہوتے ہوئے اس شق پر دستخط ممکن نہیں۔
انہوں نے کہاکہ میرا مؤقف تھا کہ جن لوگوں نے پاکستان سے الحاق کے لیے قربانیاں دی ہیں، ان کی نشستیں ختم کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ وہ ایک پرانے سیاسی کارکن ہیں۔ گزشتہ 22 روز سے ان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی تیاری ہو رہی تھی۔ اور دوستوں کے مشورے کے باوجود انہوں نے اسمبلی تحلیل نہیں کی۔
واضح رہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف پیپلز پارٹی نے تحریک عدم اعتماد جمع کراتے ہوئے نوجوان پارلیمنٹیرین راجا فیصل ممتاز راٹھور کو نیا قائد ایوان نامزد کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع، فیصل راٹھور نئے وزیراعظم آزاد کشمیر نامزد
تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس 17 نومبر بروز پیر کو طلب کرلیا گیا ہے، اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں 5 سال کے دوران یہ چوتھا وزیراعظم ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تحریک عدم اعتماد چوہدری انوارالحق فیصل ممتاز راٹھور نئے قائدِ ایوان وزیراعظم آزاد کشمیر وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد چوہدری انوارالحق فیصل ممتاز راٹھور نئے قائد ایوان وی نیوز تحریک عدم اعتماد انہوں نے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔