ملتان سلطانر کا پی ایس ایل میں سفر اختتام پذیر، پی سی بی نے کنٹریکٹ میں شامل نہیں کیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے پی ایس ایل کے تازہ ترین کنٹریکٹ راؤنڈ میں ملتان سلطانز کو شامل نہیں کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے کراچی کنگز، پشاور زلمی، اسلام آباد یونائیٹڈ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور لاہور قلندرز سمیت باقی 5 فرنچائزز کو کنٹریکٹس جاری کردیے ہیں، تاہم ملتان سلطانز کو نیا معاہدہ نہیں دیا گیا کیونکہ وہ پی سی بی کی کمپلائنس ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل میں 2نئی ٹیموں کی شمولیت، پی سی بی نے درخواستیں طلب کرلیں
دیگر تمام فرنچائزز کو 25 فیصد اضافے کے ساتھ کنٹریکٹ آفر دی گئی اور انہیں دستخط کے لیے 10 دن کی مہلت دی گئی۔ ملتان سلطانز کو پی ایس ایل ویلیوایشن رپورٹ بھی نہیں بھیجی گئی، جس سے صورتحال مزید غیر واضح ہوگئی ہے۔ یہ پیش رفت اس پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ ٹیم کے مالک علی ترین اور پی سی بی کے درمیان پہلے بھی اختلافات رہے ہیں۔
علی ترین اس سے قبل پی سی بی انتظامیہ پر تنقید کرتے رہے ہیں اور بورڈ کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس کو پھاڑ کر رد بھی کرچکے ہیں۔ اس سے پہلے فرنچائز نے چیئرمین پی سی بی کو خط لکھ کر معاملات کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان سلطانز کے علی ترین کا پی سی بی کو دوٹوک جواب، لیگل نوٹس پھاڑ دیا
دوسری جانب پی سی بی نے پی ایس ایل کی 7ویں اور 8ویں ٹیم کی فروخت کے لیے ٹینڈر جاری کردیا ہے۔ خواہشمند خریدار 15 دسمبر تک اپنی تجاویز جمع کرا سکتے ہیں، جس کے بعد دونوں نئی ٹیموں کی نیلامی ہوگی۔
نئی فرنچائزز کے لیے ممکنہ شہروں میں حیدرآباد، سیالکوٹ، مظفرآباد، فیصل آباد، گلگت اور راولپنڈی شامل ہیں۔ فرنچائز مالکان اپنی نئی ٹیم کے لیے کسی بھی شہر کا انتخاب کر سکیں گے، جس سے پی ایس ایل کا دائرہ ملک بھر میں مزید وسیع ہونے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پی ایس ایل پی سی بی کنٹریکٹ محسن نقوی ملتان سلطانز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل پی سی بی کنٹریکٹ محسن نقوی ملتان سلطانز ملتان سلطانز پی سی بی نے پی ایس ایل کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :