عورت کو نعرے نہیں حقوق چاہئیں،خواتین بیدار ہو گئیں،ڈاکٹر حمیرا طارق
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ عورت کو نعرے نہیں حقوق چاہئیں، خواتین اب بیدار ہوگئی ہیں ،جماعت اسلامی عورت کو گھر کی زینت اور معاشرے کی قوت بنانا چاہتی ہے،یہ بات انہوں نے اجتماعِ عام کے دوسرے روز خواتین سیشن بعنوان ’’جہاں آباد تم سے ہے ‘‘سے اپنے خطاب میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماع عام میں خواتین کی بھرپور حاضری اس حقیقت کی گواہ ہے کہ پاکستان کی خواتین بیدار ہوچکی ہیں۔ ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ عورت بحیثیت ماں، بہن، بیوی بیٹی کمزور نہیں، اسلام نے اسے اسی حیثیت میں عزت دی ہے، آج وہی عورت ظلم، گھریلو تشدد اور وراثت سے محروم ہے۔حمیرا طارق نے کے بقولجیلوں میں قید خواتین کی بحالی، رہنمائی اور باعزت آزادی کے لیے جماعت اسلامی جدوجہد کر رہی ہے۔’’ناظمہ اجتماع اور ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن نے حلال و حرام، جائز و ناجائز کی مکمل وضاحت کر دی ہے۔ انہوں نے حضرت حفصہؓ، حضرت عائشہؓ کی علمی خدمات اور امام احمد بن حنبلؒ جیسے اکابر کی تربیت کرنے والی عظیم خواتین کا ذکر کیا اور کہا کہ قرآن ان باکردار عورتوں کی گواہی دیتا ہے، ہمیں بھی اُمید کی کرن بنتے ہوئے اسلامی نظام نافذ کرنے کی کوشش جاری رکھنی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کے پرجوش نعروں سے ماحول گونج اٹھا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس اجتماع میں خواتین کی بھرپور موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نظامِ تبدیلی کے لیے سرگرم اور پُرعزم ہیں۔ڈاکٹر زبیدہ جبین نے کانفرنس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عورت پر مظالم کی بڑی وجہ قران کے نظام کا نفاذ نہ ہونا ہے۔انہوں نے اعلامیہ کی سفارشات میں کہا کہ نظام کی تبدیلی پر صحت مندنسل کی تیاری کے لے تعلیمی ادارے بچوں کی اخلاق،نفسیاتی اور جسمانی نشوونما کے بھی ذمے دار بنیں گے،ماں اور بچے کو صحت مند ماحول کی فراہمی،سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کی تربیت اور فری ہیلتھ کئیر کا قیام شامل ہے اس خواتین سیشن میں نمایاں خواتین کو ہائی ایچیورز ایوارڈ دیے گئے ۔ ان میں ملائیشیا سے ڈاتو ہاجا،زیرائدھا بینٹی کورنین،فلسطین سے ڈاکٹر فوزیہ حسن،بنگلا دیش سینور النساء صدیقہ،انگلینڈ سے لورئین بوتھ، آسٹریلیا سے سانو ابوشبان،ہسنا عبیداللہ عزیز انڈونیشیا،لائلہ زیتونی جرمنی،نورجہاں ہلوانی انڈونیشیا، عائشہ عطاالرحمن ترکیہ،ھداحسین محمد عتوم اردن،سمیرا تاج کو بحرین سے دیے گئے۔ خواتین سیشن میں ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر زبیدہ جبیں، عطیہ نثار، عائشہ سید، ناظمہ وسطی پنجاب نازیہ توحید، ناظمہ حلقہ لاہور عظمی عمران، ناظمہ کے پی کے شازیہ افضل، ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب بھی موجود تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔