امریکی غلامی سے بہت نقصان اٹھایا، کشمیر و فلسطین ہماری ریڈ لائن: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
لاہور: (نیوزڈیسک) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ قومی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے تک ہمارا کوئی امیدوار نہیں ہوگا، کشمیر اور فلسطین ہماری ریڈ لائن ہیں۔
لاہور مینار پاکستان پر جماعت اسلامی کے زیراہتمام بدل دو نظام کے عنوان سے ہونے والے اجتماع عام کے آخری دن خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی جماعتوں میں نظم و ضبط کا بحران ہے، ہماری جماعت میں جو چلے گا وہ نظام کے تحت چلے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشی حاصل کرنے کے لیے جو کیا جا رہا ہے بہت غلط ہے، امریکا کی غلامی اختیار کر کے ہم نے اپنا بہت نقصان کر لیا ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہونی چاہئے، امریکا سمیت کسی ملک کو ڈاکا ڈالنے کا حق نہیں، ہمارا اختلاف بھی وقار کے ساتھ ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، کشمیر پاکستان کا ہے اور پاکستان کشمیر کا ہے، کشمیر اور فلسطین ہماری ڈیڈ لائن ہے، کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے، آزاد فلسطینی ریاست ہی مسئلہ فلسطین کا حل ہے، پاکستان کے حکمران فلسطین کی حمایت کریں اور پوری قوم کو اس پر ساتھ لے کر چلیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں قومی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے تک جماعت اسلامی کا کوئی امیدوار نہیں ہے، ہم پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنے والے لوگ ہیں اور صوبوں کو آپس میں لڑوانے والے نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ خواتین کے حقوق کی بات نہیں کرتے، موقع ملا تو ہر خاتون کو وراثت میں حق دلائیں گے، ٹھیکیداری نظام میں خواتین کو حقوق نہیں دیے جاتے، حکمرانوں کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ نظام جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کو عزت دیتا ہے، 2015ء سے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن نہیں ہوئے، غیر جماعتی الیکشن کی بات کرنے والے چاہتے ہیں کہ ہر یو سی میں ہارس ٹریڈنگ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے کہا جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔