اگر آپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کو وی پی این کے ذریعے استعمال کرتے ہیں تو اب یہ بات دوسرے صارفین کو بھی پتا چل سکے گی۔
ایکس کے پروڈکٹ ہیڈ نکیتا بئیر نے کچھ عرصہ قبل بتایا تھا کہ پلیٹ فارم صارفین کے بارے میں مزید تفصیلات ظاہر کرے گا، جن میں ان کا ملک اور یہ بھی شامل ہوگا کہ وہ وی پی این استعمال کر رہے ہیں یا نہیں۔ اس نئے فیچر کا مقصد جعلی اکاؤنٹس اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
اب وی پی این استعمال کرنے والے صارفین کی پروفائل پر ایک وارننگ دکھائی دے گی، جس میں بتایا جائے گا کہ اکاؤنٹ پر ظاہر کیا گیا ملک یا خطہ ممکنہ طور پر درست نہیں۔ یہ فیچر 21 نومبر سے متعارف ہونا شروع ہوا تھا اور اب دنیا بھر میں فعال کر دیا گیا ہے۔
نکیتا بئیر کے مطابق صارفین ایک پرائیویسی آپشن بھی استعمال کر سکیں گے جس کے تحت صرف ان کا علاقہ (ریجن) ظاہر ہوگا۔ البتہ یہ سہولت خاص طور پر ان ممالک کے صارفین کے لیے ہے جہاں ایکس تک رسائی محدود ہے یا اظہارِ رائے پر سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ایکس کس قسم کا ڈیٹا استعمال کرکے صارف کا اصل مقام یا وی پی این کا استعمال شناخت کرتا ہے، مگر کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ معلومات 99.

99 فیصد درست ہوتی ہیں۔
تاہم ایکس نے واضح کیا ہے کہ وی پی این استعمال کرنے پر کوئی پابندی نہیں، صرف اس کی نشاندہی کی جائے گی۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پی این استعمال

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں