دہشتگردوں کی تیاریاں بے نقاب، ایف سی پر حملے میں کتنا بارودی مواد استعمال ہوا، رپورٹ تیار
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) نے فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے حملے کی تفصیلی رپورٹ تیار کرلی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حملہ خودکش حملہ آوروں نے منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا اور اس میں تقریباً 20 کلوگرام بارودی مواد استعمال ہوا۔ خودکش جیکٹس میں یہ مواد آگے اور پیچھے دو حصوں میں تقسیم تھا، جس سے دھماکے کا اثر 30 میٹر تک پہنچ سکتا تھا۔
بی ڈی یو کے مطابق دھماکے مکمل طور پر خودکش تھے اور ریموٹ کنٹرول کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے گئے جن میں 8 دستی بم، 2 ملی میٹر سائز کے بال بیرنگ اور 2 فٹ پرائما کارڈ شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بروقت جوابی کارروائی سے حملے کا بڑا نقصان ٹل گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایف سی کے 3 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے جبکہ 8 شہری بھی زخمی ہوئے۔ بم ڈسپوزل یونٹ نے حملے کی نوعیت کو خطرناک اور منظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دہشتگردی کی واضح کوشش تھی، لیکن سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے مزید جانی نقصان روک دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔