ہائی نان، خوبصورت ساحلوں اور چائے کے باغات سے بھی آگے اب ایک غیر معمولی فری ٹریڈ زون
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
چین، قدیم و جدید کا وہ حیرت کدہ ہے جسے دیکھنے اور جاننے میں مجھے ہمیشہ سے دلچسپی رہی ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے یا دوستوں سے جو معلومات ملتی رہیں ان کی مدد سے میں نے کئی علاقوں کو اپنی ’ٹریول وش لسٹ‘ میں شامل کیا اور اس میں ایک نام خوبصورت ساحلوں والے سان یا کا بھی تھا۔
ہائی نان میں واقع اس ساحلی شہر کے بارے میں معلومات لیتے ہوئے اس جزیرے کے دیگر شہروں کے بارے میں بھی جاننا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ کیا ہی کمال علاقہ ہے یہ۔ سان یا کے خوبصورت ساحل ہوں یا ہائیکو کے کاروباری ماحول کی گہما گہمی، بوآو لہ چھینگ میں صحت کی خدمات کے شاندار مراکز ہوں یا چائے کی ہرے بھرے باغات کی تازگی، ہائی نان کے ہر علاقے کی انفرادیت اس کو یہاں آنے والوں کے لیے خاص بنا دیتی ہے۔
حالیہ دنوں جب چین کے جزیرہ نما صوبے ہائی نان جانے کا موقع ملا تو دل خوش ہوگیا، کہ ان علاقوں کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھوں گی۔ اپنے اس دورے کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ ہائی نان صرف سیاحت، چائے کے باغات اور کاروباری گہما گہمی کا ہی نام نہیں، بلکہ یہ کاروبار کا آغاز کرنے، کاروبار جمانے اور نئی مارکیٹس تک پہنچنے کے لیے ایک بہت شاندار پلیٹ فارم ہے، جہاں دنیا بھر کے باصلاحیت افراد اپنے ذاتی کاروبار کے خواب کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔
اس سلسلے میں ہائیکو انٹرنیشنل ٹیلنٹ ہاؤس ان کی بھرپور مدد کر رہا ہے، اکتوبر 2025 تک 500 غیر ملکی پروفیشنلز، ٹیلنٹ کمیونٹی میں شامل ہوئے، غیر ملکیوں کے لیے 5 مرحلوں پر مشتمل کاروباری انکیوبیشن ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کیا گیا اور اسی پروگرام کے تحت 200 افراد کی معاونت و رہنمائی کی گئی ہے، جب کہ 50 غیر ملکی انٹریپنیورز کو کاوبار جمانے میں مدد فراہم کی گئی۔
ہائیکو فوشنگ چھنگ انڈسٹریل پارک جو ہائی نان میں صنعتی سرمایہ کاری اور انڈسٹریل پارک آپریشن مینجمنٹ کا معروف ادارہ ہے، ایک ’انڈسٹریل ایکولوجیکل آپریٹر‘ ہے۔ فوشنگ چھنگ مختلف صنعتی شعبوں کے ساتھ ایک گروپ کمپنی کے طور پر ترقی پا چکا ہے، جس میں رئیل سٹیٹ کی ترقی، تجارتی آپریشن، پراپرٹی مینجمنٹ، صنعتی سرمایہ کاری، ہوٹل اور کیٹرنگ، نیز فنڈ مینجمنٹ کے شعبے شامل ہیں۔
اس انڈسٹریل پارک میں میرے کانوں میں یکدم اردو کے الفاظ پڑے تو میں چونک گئی، کیا یہاں کوئی پاکستانی بھی ہے؟ منتظمین نے کہا، جی یہاں پر بہت سے غیر ملکی افراد ہیں جن میں کئی پاکستانی بھی یہاں سے اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ کیا آپ ملنا چاہیں گی؟ ظاہر ہے انکار کی گنجائش ہی نہیں تھی۔
اس وقت وہاں 6 سے 7 پاکستانی موجود تھے جب کہ کچھ ساتھی کام کے سلسلے میں فیلڈ میں گئے ہوئے تھے۔ کئی غیر ملکی افراد کا تعلق ان ممالک سے تھا جن کے لیے ہائی نان کی ویزا فری پالیسی قابل عمل ہے۔ اس پالیسی کے تحت 59 اہل ممالک کے پاسپورٹ ہولڈرز سیاحت، کاروباری سرگرمیوں، تبادلے کے دوروں، نمائشوں، کھیلوں کے مقابلوں اور خاندان سے ملاقات وغیرہ کے لیے 30 دن کے لیے بغیر ویزے کے ہائی نان میں قیام کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت ان ممالک کے شہریوں کے لیے وقت اور اخراجات دونوں ہی کی بچت فراہم کرتی ہے۔
ان کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوا کہ صرف ہائیکو ہی میں تقریباً 50 کے قریب پاکستانی کمپنیز کام کر رہی ہیں۔ میرا ان سے پہلا سوال ہی یہ تھا کہ انہوں نے باقی شہروں کی نسبت ہائی نان کا انتخاب ہی کیوں کیا؟ گو کہ سب نے انفرادی طور پر جواب دیئے لیکن وجوہات یکساں تھیں، یہاں کا موسم جو معتدل اور خوشگوار ہے۔
چین کے باقی بڑے شہروں کی نسبت یہ شہر نسبتاً سستا لیکن بہترین معیار زندگی فراہم کرتا ہے اور سب سے اہم وجہ کاروباری سہولیات اور حکومتی معاونت ہے۔ ان پاکستانیوں کے علاوہ یہاں موجود غیر ملکی بھی یہاں کے کاروباری ماحول سے بے حد مطمئن تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے دیگر شہروں کی نسبت ہائیکو کے انتخاب کی ایک بڑی وجہ اس کا فری ٹریڈ زون ہونا ہے، یہاں پر ٹیکسز نہیں ہیں، جس کی وجہ سے منافع بھی باقی علاقوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے اور کم سے کم کاغذی کاروائیوں کی وجہ سے مال کی ترسیل بھی تیز ہوتی ہے نیز حکومتی اہلکاروں کی جانب سے بے حد تعاون کیا جاتا ہے۔
چین نے 2018 میں اعلان کیا تھا کہ وہ ہائی نان کو ایک پائلٹ فری ٹریڈ زون کے طور پر ترقی دے گا اور بتدریج اسے چینی خصوصیات کی حامل فری ٹریڈ پورٹ بنائے گا، جب کہ 2020 میں پیش کیے گئے منصوبے کے مطابق اس صدی کے وسط تک ہائی نان کو عالمی سطح پر بااثر اور اعلی معیار کے ایف ٹی پی میں تبدیل کرنے کا ہدف طے کیا گیا تھا۔
یہاں پر کام کرنے والے افراد نے اس تمام تر تبدیلی کو اپنے سامنے رونما ہوتے دیکھا ہے۔ آج وہ اپنے فیصلے پر بے حد مطمئن ہیں کہ چین کے جس وعدے پر یقین کرکے انہوں نے یہاں کا انتخاب کیا تھا وہ پورا ہوا ہے اور 18 دسمبر سے پورے ہائی نان جزیرے میں خود مختار کسٹمز آپریشنز کا باضابطہ آغاز ہو رہا ہے۔
یہاں کے کاروباری حلقوں سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ آغاز نہ صرف اس علاقے کے لیے بلکہ چین کے کھلے پن کے اقدامات کے لیے بھی ایک بڑا قدم ہے۔ معاشی ماہرین اسے چین کی جانب سے اعلیٰ معیار کی کھلی معیشت کو فروغ دینے اور عالمی معیشت کی ترقی کے لیے ایک اہم اقدام قرار دے رہے ہیں۔
اب ذرا اس پہلو کو سمجھتے ہیں کہ کاروباری افراد اس نئے آغاز کے حوالے سے اتنے خوش کیوں ہیں۔ فری ٹریڈ پورٹ پالیسی فریم ورک کا بنیادی ستون زیرو ٹیرف پالیسی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خصوصی کسٹم آپریشنز کا آغاز ہونے کے بعد، ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ میں زیرو ٹیرف مصنوعات کا تناسب 21 فیصد سے بڑھ کر 74 فیصد تک ہو جائے گا، جبکہ ٹیرف فری اشیا کی تعداد 1,900 سے بڑھ کر تقریباً 6,600 ہو جائے گی۔
ان مثبت اقدامات سے کاروبار کے لیے پیداواری لاگت کے کم ہونے سمیت مارکیٹ بھی متحرک ہوگی، جب کہ جزیرے کے اندر تجارتی مال کی آزادی اور آسانی کی سطح نمایاں طور پر بہتر ہوگی۔
چین، مارکیٹ میں داخلے کے معیار کو مزید آسان بنا رہا ہے تاکہ کمپنیز ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ میں ڈیوٹی فری اور ترجیحی پالیسیز سے فائدہ اٹھا سکیں۔ پہلے کمپنیز کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی آمدنی کا کم از کم 60 فیصد ابھرتی ہوئی صنعتوں سے حاصل کریں، تاہم اب اس اصول کو ختم کر دیا گیا ہے، یہ تبدیلی اہلیت کو وسیع کرے گی اور مزید کمپنیز کو فری ٹریڈ پورٹ کی ترجیحی پالیسیز سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گی۔
ہائی نان نے یکم نومبر سے ڈیوٹی فری خریداری کی پالیسی میں بھی توسیع کی ہے، جس کے بعد اب آف شور ڈیوٹی فری فہرست مصنوعات کی 47 مختلف اقسام پر مشتمل ہے، جن میں چھوٹے ڈرونز، موسیقی کے پورٹیبل آلات، کپڑے اور چائے وغیرہ شامل ہیں۔ پالیسی کی یہ تبدیلیاں خریداروں کی متنوع ضروریات کو پورا کریں گی اور مقامی کھپت بڑھانے سمیت مقامی طور پر خرچ کی صلاحیت کو بھی بڑھائیں گی۔
ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ کا یہ ترقیاتی عمل چین کی تجارتی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کر رہا ہے، جس کا مقصد ایک زیادہ آزاد اور موثر تجارتی ماحول پیدا کرنا نیز ہائی نان کے اقتصادی انضمام اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے اس کی کشش میں اضافہ کرنا ہے۔
سان یا کے ساحل پر لہروں کو دیکھتے ہوئے، یہاں کے ریستوران میں سی فوڈ ہاٹ پاٹ کابھرپور لطف اٹھاتے ہوئے، 700 سے زائد عالمی شہرت یافتہ برینڈز سے سجے دنیا کے سب سے بڑے ڈیوٹی فری مال، سانیا ڈیوٹی فری مال میں خریداری کرتے ہوئے ملکی اور غیر ملکی افراد کی ایک بڑی تعداد دیکھ کر مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ یہ علاقہ جلد ہی غیر ملکی سیاحوں کی ’ڈریم ڈیسٹی نیشن‘ ہوگا۔
لیکن یہ بھی یاد رہے کہ یہاں کی بندرگاہ پر جہازوں سے کنٹینرز تک مال کے اترنے اور چڑھنے سے لے کر کسٹم سے گزر کر مارکیٹس تک آنے کے مختصر وقت نے اسے نئے کارباری مواقعوں کی جنت بنا دیا ہے، اور جلد ہی یہ ایشیا کا وہ مقناطیس ہوگا جو دنیا کے ہر کونے سے چھوٹے اور بڑے کاروباری اداروں کو اپنی جانب کھینچ لے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فری ٹریڈ پورٹ ڈیوٹی فری ہائی نان غیر ملکی کی نسبت رہا ہے چین کے کے لیے تھا کہ
پڑھیں:
نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔
جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ
یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔
مزید :