Islam Times:
2026-06-03@02:43:01 GMT

اقوام متحدہ کا نیا سیکریٹری جنرل کون ہو گا؟

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

اقوام متحدہ کا نیا سیکریٹری جنرل کون ہو گا؟

اقوام متحدہ کی جانب سے 193 رکن ممالک کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ عالمی بین الحکومتی تنظیم کو بین الاقوامی تعلقات، سفارت کاری اور زبان کی مہارت میں وسیع تجربہ رکھنے والے امیدواروں کی تلاش ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کا عمل شروع ہو گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق رکن ممالک کو یکم جنوری 2027ء میں شروع ہونے والی نئی مدت کے لیے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جگہ پر نامزدگی بھیجنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے 193 رکن ممالک کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ عالمی بین الحکومتی تنظیم کو بین الاقوامی تعلقات، سفارت کاری اور زبان کی مہارت میں وسیع تجربہ رکھنے والے امیدواروں کی تلاش ہے۔ خط کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، یہ ایک ایسا عہدہ ہے جس کے لیے کارکردگی، اہلیت اور دیانتداری کے اعلیٰ ترین معیارات اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے لیے پختہ عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کچھ رکن ممالک سیکریٹری جنرل کے لیے ایک خاتون کو منتخب کرنے کی وکالت کر رہے ہیں جس پر اقوام متحدہ کی قیادت نے اپنے خط میں افسوس کے ساتھ لکھا کہ آج تک کوئی خاتون سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز نہیں ہوئیں۔ خط میں رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خواتین کی نامزدگی پر سختی سے غور کریں۔

خط کے مطابق امیدواروں کو ریاست یا ریاستوں کے ایک گروپ کی جانب سے پیش کیا جانا چاہیے، امیدواروں کی فہرست اور فنڈنگ ​​کے ذرائع جمع کروانے چاہیں۔ میڈیا رپورٹس کے شفافیت کے طریقہ کار کو برقرار رکھنے کے لیے امیدوار عوامی انٹرویوز سے گزر سکتے ہیں، یہ طریقہ سب سے پہلے 2016ء کے انتخاب کے دوران استعمال کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت 31 دسمبر 2026ء کو مکمل ہو گی۔ وہ جنوری 2017ء سے دسمبر 2021ء تک اس عہدے پر فائض رہے پھر یکم جنوری 2022ء سے دسمبر 2026ء تک دوسری مدت کے لیے اس عہدے پر منتخب ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ رکن ممالک کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت