ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کا مقدمہ دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
محکمہ انسداد دہشت گردی(سی ٹی ڈی) پشاور نے فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کا مقدمہ درج کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایک روز قبل پشاور میں قائم ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کا مقدمہ سرکار ایس ایچ او گلبرگ کی مدعیت میں تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کیا گیا ہے۔
مقدمہ متن کے مطابق حملے میں 3 ایف سی اہلکار شہید اور ایف سی جوانوں سمیت 11 افراد زخمی ہوئے جن میں ائیرفورس کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔
ایس ایچ او گلبرگ عبداللہ جلال کی مدعیت میں درج مقدمے میں 7اے ٹی اے، ایکسپلوسیو، قتل ودیگر دفعات شامل کی گئیں ہیں۔
ایف آئی آر متن کے مطابق 3 خودکش بمبار موٹرسائیکل 125 پر آئے، جس میں سے ایک خودکش نے خود کو ایف سی ہیڈکوارٹر کے مین گیٹ پر دھماکے سے اڑایا جبکہ دو دہشتگردوں نے اندر داخل ہوکر دستی بم پھینکے اور فائرنگ کی ۔
جوانوں کے بروقت اور بھرپور جواب پر اندر داخل ہونے والے دوسرے خودکش بمبار نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑایا۔ دھماکے میں سپاہی ریاست خان، سپاہی الطاف خان اور حوالدار عالمزیب خان موقع پر شہید جبکہ زخمیوں میں 6 عام شہری محمد جاوید، عرفان اللہ، سجاد، احمد شاہ، شاکراللہ اور عبداللہ کے علاوہ 4 ایف سی اہلکار ارشد، عرفان ،رحیم بخش، عطاءاللہ اور ایک ائیرفورس اہلکار شاہ رخ زخمی ہوا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق دہشتگردوں نے ملکی سالمیت و سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز دھماکے میں زخمی ہونے والے چار زخمیوں کو صحت میں بہتری کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔