اسرائیل میں غزہ جنگ کے بعد سے فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان ٹکراؤ روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر کوئی ایک بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوجی سربراہ چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر اور وزیرِ دفاع عزرائیل کاٹز کے درمیان کشیدگی اور اختلاف اب سب کے سامنے آگیا۔

 یہ ٹکراؤ اُس وقت بڑھا جب وزیر دفاع نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کو نہ روک پانے سے متعلق فوجی ناکامیوں پر تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ کی دوبارہ جانچ کا حکم دیا۔

اسرائیلی وزیر نے اس جانچ کے لیے اپنے ماتحت دفاعی ادارے کے کمپٹرولر بریگیڈیئر جنرل (ر) یائر وولانسکی کو تحقیقات کا نیا مینڈیٹ دیا۔

انھوں نے اس جانچ کے حکم کے ساتھ ہی فوجی افسران کی ترقیوں کے معاملے کو بھی ایک ماہ کے لیے معطل کردیا۔

جس پر اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر غصے میں آگئے اور انھوں نے کھلم کھلا کہا کہ مجھے یہ سارے حساس اور اہم فیصلے میڈیا کے ذریعے معلوم ہوئے اور وہ بھی اُس وقت جب ہم گولان کی پہاڑیوں میں مشق میں مصروف تھے۔

ایال زمیر نے اپنے سخت بیان میں مزید کہا کہ یہ رپورٹ شروع سے ہی صرف اور صرف فوجی تحقیقاتی معیار جانچنے کے لیے تھی لیکن اب اسے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ سیکڑوں گواہیاں سننے اور وسیع تحقیق کے نتیجے میں پیشہ ورانہ انداز میں تیار کی گئی تھی جس کی دوبارہ جانچ غیر متعلق اور ناقص ترین فیصلہ ہے۔

اسرائیلی آرمی چیف نے اپنے وزیر دفاع کو یاد دلایا کہ فوج ہی واحد ادارہ ہے جس نے اپنی ناکامیوں کی خود تحقیقات کیں اور ذمہ داری بھی قبول کی۔

ایال زمیر نے کہا کہ اگر کسی کو مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تو پھر ایک غیرجانبدار، آزاد اور کسی تھرڈ پارٹی کے ماتحت کمیشن تشکیل دیا جائے۔

ترقیاں روکنے کے وزیر دفاع کے فیصلے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا کہ اس عمل سے فوج کی صلاحیت اور مستقبل کے چیلنجز کی تیاری کو نقصان پہنچتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ فوجی افسران کی برخاستگی یا سرزنش فوج کا اندرونی معاملہ ہے اور اس کے لیے وزیر دفاع کی منظوری کی ضرورت نہیں۔ میں یہ عمل جاری رکھوں گا اور بطور روایتی طریقہ کار وزیر دفاع کو بھیجتا رہوں گا۔

واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب اسرائیل میں فوج اور حکومت یوں آمنے سامنے آئی ہو۔ غزہ جنگ کے ابتدا سے ہی دونوں ہی ایک دوسرے پر ناکامی کا ملبہ ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایال زمیر وزیر دفاع انھوں نے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان