data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) امارات میں 73 فیصد سرمایہ کاروں نے انسانی مشیروں کے بجائے اے آئی کو ترجیح دینے پر آمادگی کا اظہار کردیا۔ حالیہ سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار انسانی مشیروں کے بجائے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنانے پر آمادہ ہیں جبکہ 70.

8 فیصد سرمایہ کار اپنے مالی پورٹ فولیو کی نگرانی بھی اے آئی کے حوالے کرنے پر اعتماد ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سروے الفیہ کمپنی کی جانب سے مئی سے جولائی کے درمیان کرایا گیا جس میں 509 مقامی سرمایہ کاروں کی آرا شامل کی گئیں۔ ان میں مختلف عمر، آمدنی اور سرمایہ کاری کے تجربے والے افراد شامل تھے، جن میں اعلیٰ مالیت والے سرمایہ کار اور عام ریٹیل سرمایہ کار بھی شامل تھے۔ سروے کے مطابق اعلیٰ مالیت والے سرمایہ کاروں میں سے صرف 52 فیصد نے اپنی موجودہ مالیاتی خدمات پر اطمینان ظاہر کیا جبکہ ریٹیل سرمایہ کاروں میں یہ شرح محض 37 فیصد رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ڈیجیٹل ویلتھ مینجمنٹ کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے تاہم موجودہ پلیٹ فارمز ان کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہیں۔ تقریباً 40 فیصد سرمایہ کاروں نے موجودہ مالیاتی مصنوعات کو ناکافی قرار دیا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں اب بھی ذاتی نوعیت کے اور ہموار حل کی کمی ہے ۔ تاہم سروے میں یہ بھی واضح ہوا کہ ٹیکنالوجی انسانی اعتماد اور رہنمائی کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی اور تقریباً نصف سرمایہ کار اب بھی مالی فیصلوں کے لیے اپنے خاندان پر انحصار کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذاتی تعلقات اور مشورہ اب بھی کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔الفیہ کے سی ای او راجر روحانا نے سروے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات ہمیشہ سے تکنیکی ترقی میں سب سے آگے رہا ہے اور یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کے رجحانات بھی ملک کے ترقی پسند وژن سے ہم آہنگ ہیں۔ سی ای او کے مطابق سب سے کامیاب حل وہ ہوں گے جہاں اے آئی انسانی مشیروں کی معاونت کرے نہ کہ انہیں مکمل طور پر بدل دے، جب پلیٹ فارمز ٹیکنالوجی کو انسانی تعلقات کے ساتھ مربوط کریں گے تو ان کا استعمال بھی بڑھ جائے گا۔رپورٹ کے مطابق امارات ڈیجیٹل ویلتھ مینجمنٹ میں بڑی تبدیلی کے دہانے پر ہے۔ مصنوعی ذہانت کی قومی حکمت عملی 2031 جیسے اقدامات ملک کو عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات کا مرکز بنانے کی جانب لے جا رہے ہیں۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیصد سرمایہ کار سرمایہ کاروں کے مطابق اے ا ئی

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ